خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 370
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء میرے نزدیک اس کی بہت زیادہ ذمہ داری نظارت بیت المال پر ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ ایک چندہ کی تحریک کرتے ہوئے نظارت بیت المال نے انہیں بھی چٹھی لکھ دی۔حالانکہ چوہدری صاحب اپنا وعدہ کافی مدت پہلے پورا کر چکے تھے۔اس طرح جماعت کے دوست یہ خیال کرتے ہیں کہ کا رکن توجہ کے ساتھ کام نہیں کرتے۔میرے خیال میں انہیں فراخدلی سے معافی مانگ لینی چاہئے تھی اور انہیں لکھ دینا چاہئے تھا کہ آپ کا نام تو اُسی فہرست میں تھا جن سے چندہ وصول ہو چکا ہے مگر ہم سے غلطی ہو گئی ہے اس طرح جماعت میں بددلی پیدا نہیں ہوتی۔اگر اندھا دھند سب کو چٹھیاں لکھ دی جائیں کہ صاحب آپ کی طرف سے چندہ وصول نہیں ہوا آپ ادائیگی کی طرف توجہ کریں تو اس سے جماعت میں بددلی پیدا ہو جاتی ہے۔اور لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کارکن صحیح طور پر کام نہیں کرتے۔اس کی سب سے بڑی ذمہ داری بیت المال پر ہے۔جس نے چارٹ نہیں بنائے جب میں نے انہیں اس طرف توجہ دلائی تو پھر انہوں نے ایک سال کے بعد چارٹ بنوایا اور اُس میں بھی بہت سی غلطیاں نکلیں۔اب تو یہ ہے کہ سب لوگوں کو خط لکھ دیئے جاتے ہیں کہ احباب چندے دیں اور چونکہ خط و کتابت بھی وہی جماعتیں کرتی ہیں جو چندے دیتی ہیں اس لئے دفتر کی طرف سے خطوط بھی انہی کو چلے جاتے ہیں اور جو جماعتیں چندے نہیں دیتیں صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے انہیں خطوط بھی نہیں جاتے۔ان نقائص کی وجہ سے بہت سی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔دفتر کے پاس ہمیشہ ایک چارٹ ہونا چاہئے جس سے معلوم ہو کہ فلاں نے چندہ دیا ہے اور فلاں نے چندہ نہیں دیا۔تا جس نے چندہ نہیں دیا اُس کا پتہ لگ جائے۔“ بعض نمائندگان کے بجٹ کے متعلق اظہارِ خیالات کے بعد حضور نے فرمایا: - ’ اب جو دوست بجٹ کی کسی خاص بات کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہوں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔اس میں محکموں والے بھی نظارت متعلق ہے اجازت لے کر اپنی اپنی بات پیش کر سکتے ہیں۔بشرطیکہ وہ حدود کے اندر ہو۔“ ام لکھوائے اور جب وہ اظہارِ خیالات کرا حضور کے ارشاد پر چند دوستوں نے اپنے چکے تو حضور نے پیش کردہ تجاویز پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا : -