خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 372
خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء دیانتداری سے بھی یہ بات ہو جاتی ہے۔روزانہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دیانتداری سے کہتا ہے کہ میرا بنک میں اتنا حساب ہے لیکن بعض اوقات تحقیقات کرنے پر بنک میں اُس کا اتنا روپیہ نہیں ہوتا۔بہر حال دیانتداری کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے کیونکہ واقعات کی سچائی کا دنیا میں یہی معیار ہے کہ فلاں نمازی ہے۔یا فلاں روزہ دار ہے۔یا فلاں تہجد گزار ہے۔حالانکہ ان سب باتوں کے علاوہ انسان کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔اور وہ غلطی کر سکتا ہے۔اگر سیکرٹری مال کو اپنے پاس سے رقم دینے کی اجازت دے دی جائے تو ایک سال کے اندر ہی گڑ بڑ پیدا ہو جائے۔پس ہمارا اصول یہی ہے کہ جس شخص کی امانت ہو وہ خود لے اور یہی بڑے بڑے بنک کرتے ہیں آجکل اس قسم کے دو تین کیس میرے پاس ہیں کسی شخص نے لکھا کہ مجھے اتنا روپیہ دے دیا جائے پھر لکھا کہ کسی بنک کی معرفت جس کی شاخ پشاور میں ہے مجھے اتنا روپیہ بھیج دیا جائے۔وہ روپیہ ان کی ہدایت کے مطابق بھیج دیا گیا اور بنک وہ وپیہ لے کر کھا گیا۔اب وہ دوست اصرار کر رہے ہیں کہ مجھے روپیہ واپس دلایا جائے۔حالانکہ سوال یہ ہے کہ انجمن وہ روپیہ کیوں دے وہ رو پید اگر ضائع ہوا تو ان کی ہدایت کے ماتحت ہوا۔انجمن نے تو روپیہ ان کی ہدایت کے مطابق انہیں بھیج دیا تھا۔اب اگر ان کا روپیہ ضائع ہو گیا ہے تو انجمن اس کی ذمہ دار نہیں ہوسکتی۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اتنا روپیہ مجھے منی آرڈر کر دو اور اُس کی ہدایت کے مطابق وہ روپیہ اُسے منی آرڈر کر دیا جائے اور وہ کہیں ضائع ہو جائے تو اس میں انجمن کا کوئی قصور نہیں اور یہی سب بنکوں کا طریق ہے۔غرض اُس شخص کی ہدایت کے مطابق روپیہ بنک کے ذریعہ بھیج دیا گیا۔مگر جب وہ ضائع ہو تو اب شور مچا رہا ہے کہ مجھے وہ روپیہ واپس دلایا جائے۔ایسے کیس ہمیشہ میرے پاس آتے رہتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ انجمن یہ نقصان برداشت نہیں کر سکتی۔یہی دنیا کا اصول ہے۔اگر ایک نوکر کو میں کسی کام کے لئے بازار بھیجتا ہوں اور پھر اس سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو اس کی ذمہ داری میں اُٹھا سکتا ہوں۔لیکن جس کام کے لئے میں نے اُسے بھیجا ہی نہیں اُس کا میں کس طرح ذمہ دار ہو سکتا ہوں۔مثلاً میں ایک نوکر کو بازر سے مولیاں خریدنے کے لئے بھیجتا ہوں اور وہ گھوڑ ا خرید لیتا ہے تو اُس کا فرض ہے کہ وہ اُس نقصان کو خود برداشت کرے کیونکہ گھوڑا خریدنے کے لئے میں نے اُسے مقرر نہیں کیا تھا۔ہاں اگر وہ