خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 366
خطابات شوری جلد سوم ۳۶۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء کے حساب سے مل گئی ہے وہ خوشی سے اور شکرانہ کے طور پر پندرہ پندرہ ہیں ہیں روپے فی کنال بطور چندہ پیش کریں۔یہ کوئی تجویز نہیں۔یہ ایک تحریک ہے اور اسے اختر صاحب لازمی نہیں کرتے۔در حقیقت ایسے نرخ پر زمین کا اکثر حصہ ایسے لوگوں کے پاس گیا ہے جن کے قادیان میں مکانات تھے اور وہ اس بات کے مستحق تھے کہ اُن سے کچھ بھی نہ لیا جاتا۔لیکن ہم نے اُن سے ایک سو روپیہ کنال کے حساب سے قیمت وصول کر لیں۔اور کہہ دیا کہ چلو محتاجوں کو زمین مفت دیدی جائے گی اور ان سے ہم کچھ نہ کچھ وصول کر لیں۔پھر یہ بھی صرف ایک تحریک ہے کہ جب تک قادیان ہمیں واپس نہیں ملتا ہم سال میں ایک ماہ کی آمد کے ٫۴ا حصہ بطور چندہ دے دیا کریں۔جس دوست کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو وہ بے شک دے اور ثواب حاصل کرے۔ایک تجویز یہ ہے کہ دیہاتی جماعتوں کے اندر رقابت پیدا کی جائے۔اصل رقابت تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہو۔دراصل ہمیں اپنے نظام کو مظبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور جماعت کے اندر ایمان پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔جب ایک گل ٹھیک ہو جائے گی تو باقی چیزیں خود بخود ٹھیک ہو جائیں گی۔پس تم ایمان پیدا کرنے کی کوشش کرو۔جب ایمان پیدا ہو جائے گا تو آمد آپ ہی آپ بڑھ جائے گی۔جب تک ایمان نہ ہو انسان قربانی کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص سلسلہ کی موجودہ مشکلات کو دیکھتے ہوئے اور سمجھتے ہوئے بھی چندہ دینے میں سستی سے کام لیتا ہے تو وہ غافل اور بے ایمان ہے۔لائکپور کے ایک تاجر دوست نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ سیل ٹیکس کا حساب کر کے تاجروں کی اصل آمد کا پتہ لیا جائے اور پھر اُس حساب سے چندہ لیا جائے۔میں ڈرتا ہوں کہ اگر ایسا کیا گیا تو پھر کہیں چندہ صفر نہ رہ جائے۔تاجر لوگ گورنمنٹ کو سیل ٹیکس بھی تو نہیں دیتے۔ہم نے جب ربوہ کے لئے سامان خریدا تو اُس پر ۳۲۰ روپے سیل ٹیکس لگا۔دکاندار نے کہا اگر آپ رسید نہ لیں تو سیل ٹیکس بھی نہیں لگے گا۔میں نے کہا ہم دھوکا بازی نہیں کریں گے۔ہم تو ضرور رسید لیں گے۔مجھے معلوم نہیں کہ اُس دُکاندار پر رحم خسروانہ کر کے کہ کسی ہمارے نمائندے نے اُس سے رسید لی یا نہیں لی۔بہر حال میری طرف سے یہی