خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 365
خطابات شوری جلد سوم ۳۶۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء گھر کے دونوں وقت کے اخراجات برداشت کرنا بھی مشکل ہوتے ہیں۔لیکن سو سو روپے ماہوار والے چندے نہیں دیتے۔پھر دس دس روپے ماہوار والے لوگ اخلاص اور قربانی کی وجہ سے اپنی آمد کے دسویں حصہ کی وصیت کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ چلو خدا تعالیٰ کا گھر پورا ہو۔اپنے اخراجات خواہ پورے ہوں یا نہ ہوں۔لیکن وہ شخص جو دو دو، اڑھائی اڑھائی ہزار روپیہ ماہوار لیتا ہے وہ وصیت نہیں کرتا۔اور کہہ دیتا ہے کہ میرے اخراجات بہت زیادہ ہیں اس لئے میں اتنا چندہ نہیں دے سکتا۔عام طور پر تاجر لوگ ایسا کرتے ہیں۔تاجر قربانی میں عموماً بہت پیچھے ہیں۔میں نے بعض بجٹ دیکھے ہیں اور پھر اردگرد کے حالات بھی دیکھے ہیں۔بعض تاجروں کی بکری اور نفع کا اندازہ سات آٹھ سو ماہوار یا ہزار روپیہ ماہوار ہوتا ہے لیکن بجٹ میں اُن کی ماہوار آمد ایک سو ، دوسو یا تین سو لکھی ہوئی ہوتی ہے۔اور وہ اپنی طرف سے نہایت دیانتداری کے ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اپنی اتنی تنخواہ مقرر کی ہوئی ہے۔آمدنی تو ایک ہزار ماہوار کی ہوتی ہے۔مگر جو تنخواہ انہوں نے مقرر کی ہوئی ہوتی ہے وہ دوسو روپے ماہوار ہوتی ہے۔جس میں سے چندہ دیا جاتا ہے۔اس تنخواہ کے علاوہ وہ گھریلو اخراجات کے لئے دوسری آمدن میں سے خواہ کتنا غبن کر لیں وہ شمار میں نہیں آئے گا۔اس تنخواہ کے علاوہ وہ دُکان سے جو روپیہ لے کر گھریلو اخراجات کو پورا کرنے کے لئے خرچ کریں گے وہ صریح غین ہوگا۔غرض جب چندہ کا سوال آتا ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ میری آمد ایک سو ہے۔لیکن جب گھر کے اخراجات کو دیکھا جائے تو خرچ پانچ سات سو سے کم نہیں ہوتا۔مجھے اس بات پر تعجب ہوا کہ ایک جگہ سے دو بھائی ایک ہی قسم کی تجارت کرتے تھے۔اُن میں سے ایک کا چندہ سو روپیہ تھا لیکن دوسرا بھائی جو اُسی قسم کی تجارت کرنے والا تھا وہ آٹھ سو ماہوار دیتا تھا۔یہ کہنا کہ ملازمت والا شخص ایسا نہیں کر سکتا یہ بھی درست نہیں۔میں نے کوئٹہ، راولپنڈی اور لاہور کے جماعت کے بجٹ دیکھے ہیں اور مجھے تعجب ہوتا ہے کہ نہایت ہی مخلص کارکنوں کی طرف سے بارہ چودہ مہینہ میں ایک پیسہ بھی وصول نہیں ہوا۔چندہ بڑھانے کی تجاویز اختر صاحب نے ایک تجویز یہ بھی پیش کی ہے کہ جن لوگوں کو ربوہ میں زمین سستے نرخ پر یعنی ایک سو روپیہ فی کنال