خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 367
خطابات شوری جلد سوم ۳۶۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء ہدایت تھی کہ اُس دکاندار سے ضرور رسید لی جائے۔میں خیال کرتا ہوں کہ اگر چندہ کے بارہ میں بھی سیل ٹیکس والا معاملہ کیا گیا تو یہ چندہ جو آ رہا ہے یہ بھی کہیں بند نہ ہو جائے۔میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ بھی بددیانتی ہے اور انہیں اس قسم کی بد دیانتی سے اجتناب کرنا چاہیئے۔اگر ٹیکس ادا نہ کئے جائیں تو پھر حکومت چلے گی کس طرح؟ جو شخص ٹیکس ادا نہیں کرتا وہ گویا اپنے بیوی بچوں کو قتل کرتا ہے۔کیونکہ حکومت کے پاس روپیہ نہیں ہوگا تو وہ فوج نہیں رکھ سکے گی اور اس کے نتیجہ میں ملک کا امن خراب ہوگا۔اسی طرح دوسری حکومتوں کو دلیری ہوگی اور وہ اس پر حملہ کر کے اُسے اپنے قبضہ میں لے لیں گی۔آپ لوگ خود ہی دیکھ لیں پاکستان کے مقابلہ میں افغانستان کی حیثیت ہی کیا ہے کیا پڑی اور کیا پدی کا شور بہ لیکن جب وہ اس قسم کی باتوں کو دیکھتا ہے تو پاکستان کے خلاف کئی قسم کی رذیل حرکات کرنے لگ جاتا ہے۔بھلا باز کے مقابلہ میں چڑیا کی حیثیت ہی کیا ہے۔اگر مسلمان کے ساتھ صلح قیمتی نہ ہوتی۔اگر اسلام میں لڑائی بُری نہ سمجھی جاتی تو پاکستان کے مقابلہ میں افغانستان کے پاس طاقت ہی کیا ہے؟ صرف بورڈر والے لوگ ہی اُس سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن اب تو خود پٹھانوں میں بددلی پیدا ہوگئی ہے۔اگر پاکستان کی افغانستان سے لڑائی ہوگئی تو افغانستان پاکستان کے مقابلہ میں ۲۴ گھنٹہ بھی لڑائی کو جاری نہیں رکھ سکتا۔صرف ان باتوں کو دیکھ کر کہ پاکستان کے رہنے والے خود اپنے ملک غداری کر رہے ہیں اُس کے اندر دلیری پیدا ہوگئی ہے۔سلطان محمود صاحب نے یہ بات پیش کی ہے کہ انسپکٹر ان کی تعداد کو بڑھایا جائے۔یہ درست ہے کہ ایک حد تک انسپکٹر ان کی تعداد کو بڑھانا مفید ہے لیکن اس شرط پر کہ کام کرنے والوں میں کام کی عادت کم نہ ہو جائے۔جب اُن کے اندر کام کرنے کا جذ بہ نہیں پایا جائے گا تو پھر اُن کے اندر ایمان بھی کم ہو جائے گا۔انسپکٹر بے شک بڑھائیں لیکن یہ کہنا جیسا کہ ایک دوست نے کہا ہے کہ مقامی جماعت کے عہدیداروں سے کام نہیں ہوتا درست نہیں۔مقامی عہدیدار جو کام کر رہے ہیں آپ لوگ انہیں اس سے بھی زیادہ کام کرنے کی عادت ڈالیں اگر ایسا نہ ہوا تو سلسلہ بالکل بنیا بن کر رہ جائے گا اور لوگوں میں ایمان نہیں رہے گا۔لاہور کی جماعت کے متعلق کہا گیا ہے کہ انہوں نے صدر انجمن احمد یہ سے ایک کلرک مانگا تھا۔