خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 364

خطابات شوری جلد سوم ۳۶۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء اگلی دفعہ ہی۔چنانچہ اُس نے بزرگ سے کہا ایک دفعہ اور فصل ہوئیں اور دونوں شراکت کریں۔اس دفعہ آپ اوپر کا حصہ لیں اور میں نیچے والا حصہ لوں گا۔اُس بزرگ نے اب کے گندم بودی اور غلہ آپ رکھ لیا اور نیچے کا حصہ یعنی بھوسہ اُس شخص کے حوالہ کر دیا۔اُس شخص نے خیال کیا کہ یہ بزرگ اب بھی قابو نہیں آیا چلو ایک دفعہ اور شراکت کریں اور کوئی فصل بوئیں اُس بوڑھے نے کہا بہت اچھا اُس شخص نے کہا اس دفعہ نیچے اور اوپر کا حصہ میں لوں گا اور آپ کو بیچ کا حصہ دوں گا۔اُس بزرگ نے اس دفعہ مکئی بودی اور نیچے اور اوپر کا حصہ اُس شخص کے حوالے کر دیا اور خود درمیان کا حصہ لے لیا۔غرض یہ لوگ تو وہ بزرگ ہیں ان تلوں میں تیل ہی نہیں۔خدا تعالیٰ خود ہی ان کے دلوں میں ایمان پیدا کرے اور وہ سچی سچی بات کریں تو اُن کی اصلاح ہو سکتی ہے ورنہ ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں۔ایک دوست نے تجویز پیش کی ہے کہ گورنمنٹ نے آمد پر ٹیکس مقرر کیا ہے اُس ٹیکس کے حساب سے چندہ لیا جائے۔لیکن ایسے لوگ ٹیکس بھی تو نہیں دیتے وہ جب دیکھتے ہیں کہ کوئی آدمی قابو میں نہیں آتا اور وہ اُن سے رسید مانگتا ہے تو فوراً کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں حساب نہیں آتا ہم نہ رسید لیتے ہیں اور نہ رسید دیتے ہیں۔اور اگر سمجھ لیا کہ وہ گا ہک پھر بھی قابو میں نہیں آتا تو اُسے کچھ روپے بھی دے دیئے اور کہہ دیا کہ آدھا تم لے لو اور آدھا میں لے لیتا ہوں۔نہ تم رسید مانگو اور نہ میں رسید دیتا ہوں۔یہی اب تک ہو رہا ہے اور کروڑوں کروڑ کے حساب سے حکومت کو سینکڑواں حصہ بھی وصول نہیں ہو رہا۔یہ ایک سیدھی سادی بات ہے کہ اس وقت سات کروڑ پاکستانی ہیں اگر اُن کی ضروریات زندگی دس روپیہ ماہوار کی ہی سمجھ لی جائیں تو پاکستان میں ستر کروڑ روپے کا سودا پک جاتا ہے اور ستر کروڑ کے اوپر دو پیسہ فی روپیہ کے حساب سے ۳۵ کروڑ آ نہ ٹیکس وصول ہونا چاہیئے یا دو کروڑ اٹھارہ لاکھ چھتر ہزار روپے وصول ہوتے ہیں۔بعض صورتوں میں اگر منہائی بھی کر دی جائے تب بھی ایک کروڑ اور کچھ لاکھ روپیہ وصول ہو سکتا ہے۔لیکن پچھلے سال تو حکومت بھی گھبرا گئی تھی۔اس لئے کہ اُسے صوبوں کا حصہ جو آنا تھا۔وہ بھی نہ آیا۔غرض اس چیز کا ایمان کے ساتھ تعلق ہے اگر کسی شخص نے چندہ دینا ہو تو وہ دیتا ہے۔ورنہ وہ ہزاروں قسم کے بہانے بنا لیتا ہے۔ہم نے دیکھا ہے کہ دس دس روپے ماہوار آمدنی والے لوگ چندہ دیتے ہیں۔حالانکہ انہیں اپنے۔