خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 363

خطابات شوری جلد سوم ۳۶۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء اُن کی رائے لی جائے گی۔مثلاً اختر صاحب کی تجویز ہے کہ آئندہ کے لئے مجلس مشاورت کی نمائندگی کے لئے موصی ہونے کی شرط لگا دی جائے۔لیکن بعض تجاویز ایسی ہیں جن کے متعلق احباب کی رائے لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔احباب کی طرف سے اظہار ہو گیا ہے اور متعلقہ دفاتر اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اختر صاحب نے میرے سامنے ایک معمہ پیش کیا ہے جو انہوں نے بعد میں حل بھی کر دیا۔اور پھر مجھ سے اس بارہ میں امداد بھی چاہی ہے۔وہ معمہ یہ ہے کہ بعض تاجر ایسے ہیں کہ جن کی آمد زیادہ ہے اور چندے بہت کم ہیں۔چندے دیتے ہوئے وہ اپنی آمد کم لکھواتے ہیں۔انہیں ہر قسم کی تحریک کی گئی ہے لیکن ایسا کوئی ذریعہ نہیں نکل سکا جس سے یہ معمہ حل ہو سکے۔اختر صاحب نے مجھ سے استمداد چاہی ہے۔اور دریافت کیا ہے کہ آپ کوئی تجویز بتا ئیں۔لیکن بعد میں وہ خود ہی کہہ گئے ہیں کہ اُن کے کھانے پینے کے اخراجات ہم سے زیادہ ہیں۔گویا اختر صاحب نے خود ہی اس معمہ کو حل بھی کر دیا ہے۔اب وہ خود ہی معلوم کر لیں کہ اُن کا گھی کتنے کا آتا ہے، آٹا کتنے کا آتا ہے اور پھر اندازہ لگائیں کہ اُن کی آمد کتنی ہے۔اور اگر یہ صورت بھی ناکام رہے تو پھر میں دوستوں کو ایک واقعہ سُنا دیتا ہوں بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ پکڑے نہیں جاتے۔کوئی بزرگ تھے لوگ خیال کرتے تھے کہ وہ بزرگ سیدھے سادے ہیں۔ایک شخص ان کے پاس گیا اور اُن سے کہا آپ کی جو زمین ہے اُسے کاشت کروایا جائے اور جو آمد آئے وہ ہم دونوں میں تقسیم ہو جایا کرے۔اُس بزرگ نے کہا بہت اچھا اُس بزرگ نے کہا میں تیار ہوں لیکن پہلے یہ فیصلہ ہو جائے کہ اس آمد کو کس طرح تقسیم کیا جائے تا اختلاف کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔اُس شخص نے کہا فصل کا وزن کرنا تو بہت مشکل ہوتا ہے۔(اُس کا خیال تھا کہ اُس بزرگ سے مفت میں کام لے لے ) میری تجویز ہے کہ جو فصل ہم بوئیں وہی تقسیم ہو جائے۔چنانچہ اُس شخص نے تجویز پیش کی کہ جو فصل بھی ہم بوئیں اُس کا اوپر کا نصف میرا اور نیچے کا نصف آپ کا ہو۔اُس کا خیال تھا کہ ہم گندم بوئیں گے اور اس طرح غلہ میرا ہوگا اور بُھوسہ اس بزرگ کو ملے گا۔وہ بزرگ سیدھے سادے نہیں تھے بلکہ عقلمند بھی تھے انہوں نے گاجریں اور مولیاں بُو دیں اور پتے اُس شخص کے حوالے کر دیئے اور گاجریں اور مولیاں خود رکھ لیں۔اُس شخص نے سمجھا کہ اس دفعہ مجھ سے دھوکا ہو گیا