خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 362

خطابات شوری جلد سوم ۳۶۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء بند کرنے پڑے تو ہم بے شک بند کر دیں گے لیکن قادیان کا کام ایسا ہے جسے ہم کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے۔اس کام کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ نادہندوں سے چندہ وصول کیا جائے اور اگر انہوں نے اپنے وعدے پورے نہ کئے تو مجبوراً ہمیں نئی تحریک کرنی پڑے گی اور دوبارہ مخلصین سے وعدے لینے پڑیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر نئی تحریک میں ماہوار آمد کا صرف ۴ را حصہ لیا جائے یا زمینداروں سے اُن کی جائیداد کے ایک فیصدی حصہ کی چوتھائی قیمت لی جائے تو یہ کمی پوری ہو سکتی ہے۔مثلاً اگر کسی شخص کے پاس مربع زمین ہے اور اُس کی قیمت ۲۵ ہزار روپیہ ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک فیصدی کے لحاظ سے ۲۵۰ روپے اور اس کے چوتھے حصے کے لحاظ سے صرف ساڑھے باسٹھ روپے اُسے ادا کرنے پڑیں گے اور یہ کوئی ایسا بوجھ نہیں جو برداشت کرنا مشکل ہو۔لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر آپ لوگ اپنے ساتھیوں پر زور دیں گے تو گزشتہ چھ لاکھ روپیہ وصول ہو جائے گا۔اگر یہ چھ لاکھ روپیہ وصول ہو جائے تو دو سال تک ہمیں اس غرض کے لئے کسی مزید چندے کی ضرورت نہیں رہتی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ اول تو ہمیں کسی نئی تحریک کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اگر ضرورت ہوئی تو اُس وقت خرچ اتنا کم ہو جائے گا کہ جماعت پر اُس تحریک کا کوئی بوجھ نہیں ہوگا۔اس دفعہ بجٹ پر غور کرنے کے لئے کوئی سب کمیٹی مقرر نہیں کی جائے گی بلکہ بجٹ دوستوں کو سنا دیا جائے گا کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ کوئی خاص بجٹ نہیں عام بجٹ ہے جس پر ہم ہر سال غور کرتے چلے آئے ہیں۔“ بجٹ کے متعلق تقریر حضور کی افتتاحی تقریر کے بعد محترم ناظر صاحب بیت المال آمد نے بجٹ کی بابت مختصر تقریر کی جس کے بعد حضور انور کے ارشاد پر بعض ممبران نے اپنی آراء پیش کیں۔اس کے بعد حضور نے بجٹ کے متعلق خطاب کرتے ہوئے فرمایا : - چندہ جات میں دیانت داری کی تلقین ” بعض باتیں تو ایسی ہیں جو ریزولیوشن کی صورت میں احباب کے سامنے پیش کر کے