خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 351

خطابات شوری جلد سوم ۳۵۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء چکے ہیں وہ ہمارے لئے زمانہ ماضی میں نہ ہوں بلکہ وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوں اسی طرح ہمیں بھول جانا چاہیے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے بلکہ ہزاروں سال کے بعد بھی اگر ایک شخص پیدا ہوتا ہے اور اس لحاظ سے خواہ ہمارا اُس کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو ، خدا کا عبد ہونے کے لحاظ سے ہمیں اُس کے ساتھ اتنی ہی دلچسپی ہونی چاہیے جتنی آج کے بچہ سے۔ہم کس طرح خدا کے عبد کہلا سکتے ہیں اگر ہم خدا کی طرح نہیں، اگر ہم ہزاروں ہزار اور لاکھوں لاکھ سال کے بعد پیدا ہونے والے سے بھی اسی طرح اپنی دلچسپی کا اظہار نہیں کرتے جس طرح آج کے لوگوں سے دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور پھر دیکھو کے خدا تم سے کیسا معاملہ کرتا ہے۔پھر تمہارے ساتھ ایسا معاملہ ہو گا کہ تم بازیچۂ اطفال نہیں بنو گے“۔" حضور نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا : ہماری جماعت ایک تنظیمی جماعت ہے ہم تنظیم کے ساتھ اکٹھے رہنے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے لیکن اب چھ ماہ گذر چکے ہیں کہ ہماری تنظیم کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ہماری مثال بالکل اس شخص کی طرح ہے جو انیس سو سال پہلے خدا کی طرف سے ایک شمع ہدایت لے کر آیا تھا اس نے بنی نوع انسان کی ہمدردی میں دن رات ایک کر دیا لیکن دنیا نے اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ اسے کہنا پڑا کہ جنگل کے درندوں کے لئے بھٹ اور پرندوں کے لئے گھونسلے ہیں لیکن ابن آدم کے لئے سر چھپانے کی جگہ نہیں۔ہم نے بہت کوشش کی کہ جب تک ہمیں قادیان نہیں ملتا ہمیں مرکز کے لئے جگہ مل جائے لیکن اب تک نہیں مل سکی۔بہر حال ہم کوشش کر رہے ہیں جب اللہ تعالیٰ چاہے گا جگہ مل جائے گی۔جو احباب مرکز میں آباد ہونا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ امور عامہ میں ابھی سے اپنے نام لکھوادیں تا کہ وقت آنے پر ہم ان کے لئے زمین وغیرہ کا انتظام کر سکیں“۔اس ضمن میں حضور نے اعلان فرمایا کہ انڈین یونین کے سوا باقی تمام ممالک کے احمد یہ مراکز پاکستان کے مرکز کے ماتحت رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آخر میں حضور نے فرمایا : - اب ایسے حالات پیدا ہورہے ہیں کہ ہماری جماعت کو صرف چندوں پر اکتفا ہی نہیں کرنا ہوگا بلکہ جانی قربانی بھی دینی پڑے گی۔پس اب احباب کو جانی قربانی کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے ،تبلیغ پر خاص زور دیا جائے اور نمازوں کو وقت پر باجماعت ادا کرنے کی سختی کے