خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 350

خطابات شوری جلد سوم ۳۵۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء گھوڑ دوڑ کے میدان کی طرح ایک نظارہ نظر آرہا ہے اُس وقت جب گھوڑا دائرہ کے اندر دوڑے گا تو کچھ لوگ کہیں گے گھوڑا آگیا کچھ لوگ کہیں گے گھوڑا آ رہا ہے ، کچھ لوگ کہیں گے گھوڑا جاچکا ہے مگر جو دائرہ کے وسط میں کھڑا ہوگا اُس کے نزدیک گھوڑے کی سب حالتیں یکساں ہوں گی جب لوگ کہہ رہے ہوں گے گھوڑا آ رہا ہے اُس وقت بھی وہ اُس کے ساتھ ہوگا، جب لوگ کہہ رہے ہوں گے گھوڑا آ گیا اُس وقت بھی وہ اُس کے ساتھ ہوگا جب لوگ کہہ رہے ہوں گے گھوڑا جا چکا تو اُس وقت بھی وہ اُس کے ساتھ ہوگا۔یہی طریق اس دنیا میں جاری ہے ، آدم آیا تو لوگوں نے کہا وہ آیا وہ آیا ، آدم اُن کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا وہ آگیا وہ آ گیا ، آدم چلا گیا تو انہوں نے کہا وہ گیا وہ گیا۔نوح آیا تو لوگوں نے کہا وہ آ رہا ہے، نوح اُن کے قریب پہنچا تو انہوں نے کہا وہ آ گیا۔نوح آگے گیا تو انہوں نے کہا وہ چلا گیا۔گھوڑ دوڑ کے میدان کی طرح چاروں طرف لوگ قطار باندھے کھڑے ہوں لیکن اُس دائرہ کے عین وسط میں ایک ہستی کھڑی ہوئی ہو جو چاروں طرف دیکھ رہی ہو اُس کی آنکھیں دائیں بھی دیکھتی ہیں اور بائیں بھی آگے بھی دیکھتی ہیں اور پیچھے بھی اس کے لئے نہ ماضی ماضی ہے نہ مستقبل مستقبل۔آدم کے وقت لوگوں نے کہا وہ آیا وہ آیا ، وہ گیا وہ گیا۔پھر نوح آئے تو لوگوں نے کہا وہ آرہے ہیں وہ آرہے ہیں وہ چلے گئے ہیں وہ۔ہیں وہ چلے گئے ہیں ، ابراہیم کا وقت آیا تو لوگوں نے چلا کر کہا وہ آ گیا وہ آ گیا ، وہ پہنچ گیا وہ پہنچ گیا ، وہ چلا گیا وہ چلا گیا۔مگر جو بیچ میں کھڑا تھا اُس کے لئے نہ کوئی گیا اور نہ کوئی پہنچا ، اُس کے لئے کوئی جگہ نہیں بدلی کیونکہ گھوڑا اگر یہاں تھا تب وہ سامنے تھا اگر وہاں تھا تب بھی وہ سامنے تھا، اُس کے لئے کوئی جگہ نہیں بدلی اُس کے لئے کوئی مقام تبدیل نہیں ہوا۔یہی حال اس عالم دنیوی میں مبعوث ہونے والے انبیاء اور رسل کا ہے ، دائرہ کے وسط میں کھڑا ہونے والا ہمارا خدا ہے اور اس دائرہ کے اندر چکر کاٹنے والے اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہیں اور زمانہ کے لوگ کبھی اس کو آتے ہوئے دیکھتے ہیں اور کبھی اس کو جاتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی ہستی ایسی ہے کہ نہ اُس کے لئے ماضی ماضی ہے نہ مستقبل مستقبل ، ہمیں کہا گیا ہے کہ تم خدا کی طرح ہو اس لئے ہمیں بھی بھول جانا پڑے گا کہ ماضی کیا ہے اور مستقبل کیا ہے، ہمارے دماغوں میں اتنی روشنی ہونی چاہیے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ماضی میں گزر