خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 349

خطابات شوری جلد سوم ۳۴۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء مل گیا کیونکہ خواہ وہ تمہارا دشمن تھا وہ خدا کا بندہ تھا تم کیوں اُس کو دشمن کی نسل کی نگاہ سے دیکھتے ہو تم کیوں اُس کو پوتے یا پڑپوتے کی نسل کی نگاہ سے دیکھتے ہو تم اس نقطہ نگاہ سے دیکھو کہ وہ خدا کا ایک پیدا کردہ بندہ ہے پس قربانیوں سے تم اس لئے مت ڈرو کہ تم آج اُس کا پھل نہیں کھا سکو گے۔تم قربانیاں کرو اور کرتے چلے جاؤ۔، ہم بچپن میں ایک کہانی سنا کرتے تھے جس میں یہ ایک فقرہ آتا تھا کہ ” نیکی کر اور دریا میں ڈال۔ہزاروں ہزار نیکیاں دنیا میں ایسی نظر آتی ہیں جو نیکیوں کی سرتاج ہوتی ہیں بظاہر انسان اُن نیکیوں میں حصہ لیتا ہے جو چوٹی کی نیکیاں کہلاتی ہیں مگر اُن کے نتیجے میں نہ انسان کی جیب میں کوئی پیسہ آتا ہے نہ اُس کی بہنوں کے کان میں یا ناک میں کوئی زیور پڑتا ہے نہ اُس کے لڑکے کے تن کو کپڑے میسر آتے ہیں ، وہ دریا میں پھینکی جاتی ہیں ، وہ بظاہر ضائع اور برباد نظر آتی ہیں حالانکہ وہ اُن نیکیوں سے ہزار ہا گنا بڑی ہوتی ہیں جو تن کو ڈھانپتی اور پیٹ کو بھرتی ہیں پس اگر تم ایسا کرو گے تو دنیا کی طبائع تمہاری طرف خود بخود کھنچی چلی آئیں گی اور تم جنت اور دوزخ کو اپنے بالکل قریب دیکھو گے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور دوزخ کو اپنے قریب دیکھا۔آپ ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ پیچھے ہٹے اور پھر آگے بڑھے، نماز کے بعد صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! نماز میں پیچھے کیوں ہٹے تھے اور پھر آگے کیوں بڑھے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، نماز میں دوزخ میرے قریب کی گئی اور میں پیچھے ہٹا پھر جنت میرے قریب کی گئی اور میں اُس کی طرف آگے بڑھا۔بندہ کی پیدائش کا مقصد خدا کا مثل بننا ہے تم بھی اپنی زندگیاں اس طرح سنوارو کہ تمہارے لئے مستقبل اور غائب کوئی چیز نہ رہے، جنت اور دوزخ دونوں غائب ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں چیزیں اسی دنیا میں دکھا دی گئیں اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی خصوصیت نہیں ، بندہ اسی لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ خدا کا مثیل بنے اور خدا کے لئے ماضی اور مستقبل کوئی چیز نہیں ہر چیز اُس کے سامنے ہے خواہ وہ ماضی کے ساتھ تعلق رکھتی ہو یا ہمارے نقطہ نگاہ سے مستقبل سے تعلق رکھتی ہو میں اس کی مثال ہمیشہ اس رنگ میں دیا کرتا ہوں کہ ایک بہت بڑا چکر ہے اور اُس چکر کے وسط میں ایک گھوڑا کھڑا ہے چاروں طرف لوگ جمع ہیں اور