خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 348

خطابات شوری جلد سو ۳۴۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء قربانی سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا۔آخر ایک مدت دراز کے بعد معمولی مدت نہیں بلکہ ۲۴۰۰ سال کے بعد جب کہ ابرہیم کی اولا د ایمان کو بھول چکی تھی ، جب وہ ابراہیم“ اور اسماعیل کی خصوصیتوں کو فراموش کر چکی تھی ، ابراہیم نے وہ پھل نہیں کھایا اسماعیل نے وہ پھل نہیں کھایا، اگر پھل کھایا تو ابو جہل کے بیٹے نے کھایا ، ولید کے بیٹے نے کھایا ،عاص کے بیٹے نے کھایا اسی طرح ابراہیم سے ہوتے ہوتے ہزاروں ہزار نہیں لاکھوں لاکھ انسانوں نے کھایا ، ولید جیسا شدید دشمن جو رات اور دن اسلام کے خلاف منصوبے کرتا رہتا تھا اُس کے بیٹے خالد نے اسلام قبول کر کے دنیا میں ایسی عزت حاصل کی کہ آج دنیا کے کناروں تک اُس کا نام عزت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے ، غرض ولید کے بیٹے نے بھی وہ پھل کھایا ، عاص کے بیٹے نے بھی وہ پھل کھا لیا یہاں تک کہ وہ شدید دشمن جس کی ساری زندگی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب میں لگی ہوئی تھی اور جس کی ساری کوششیں اسلام کی تخریب کے لئے خرچ ہوتی تھیں اُس نے بھی وہ پھل کھایا اور ایسا کھایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں نظر آیا کہ فرشتے جنت کے انگور کا ایک خوشہ لائے ہیں اور آپ پوچھتے ہیں یہ جنتی انگور کا خوشہ تم کس کے لئے لائے ہو ، انہوں نے جواب دیا ابو جہل کے لئے ، آپ فرماتے ہیں میں یہ سن کر کہ ابو جہل کے لئے جنت کے انگوروں کا خوشہ آ رہا ہے، کانپا اور میری آنکھ کھل گئی۔جب ابو جہل کا بیٹا عکرمہ مسلمان ہوا تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا خواب پورا ہو گیا۔ابو جہل کے لئے جو خوشہ آیا تھا وہ عکرمہ نے کھا لیا اس میں وہی حقیقت بیان کی گئی ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جنت سے ابو جہل کے لئے انگور کا خوشہ لایا گیا ہے اور جنت سے کیا مراد تھی، اس جنت سے یقیناً محمدی باغ مراد تھا اور یہی محمدی باغ تھا جس کا پھل ابو جہل نے کھایا مگر خود ابراہیم نے اس کا پھل نہیں کھایا ، خود اسماعیل نے جس کی ساری زندگی قربانیوں میں گزری اس کا پھل نہیں کھایا۔پس کیوں خیال کرتے ہو کہ تمہاری قربانیوں کا آج نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں۔اگر تمہاری نسل کسی وقت بھی تمہاری قربانیوں سے فائدہ اُٹھالے، اگر تمہارے ہمسائے کی نسل کسی وقت بھی تمہاری قربانیوں سے فائدہ اُٹھالے بلکہ ہمسائے کی نسل کو جانے دو، اگر تمہاری قربانیوں سے کسی وقت تمہارے دشمن کی نسل فائدہ اُٹھالے تو یقیناً تمہاری قربانیوں کا پھل تمہیں