خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 286

خطابات شوری جلد سوم ۲۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء کے وعدے بھی ملائے جائیں تو تین لاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔لیکن آپ لوگ اپنے نفسوں میں غور کریں کہ آپ نے بیعت کے وقت کیا عہد کیا تھا؟۔کیا آپ کی یہ قربانی اُس عہد کو پورا کر رہی ہے؟ پس کوشش کرو کہ اس امتحان میں فیل نہ ہو جاؤ اور دوسرے لوگوں کو بھی ہوشیار کرنے کی کوشش کرو اور اپنی جائیدادوں کا ایک فیصدی جلد سے جلد مرکز میں بھیج دو خواہ قرض لے کر بھیجنا پڑے خواہ جائیداد کا کوئی حصہ فروخت کرنا پڑے۔اگر ساری جماعت اللہ تعالیٰ سے باندھے ہوئے عہد کو مدنظر رکھے اور اپنی جائیدادوں کا صرف ایک فیصدی دے تو ہم پچاس لاکھ روپیہ آسانی سے جمع کر سکتے ہیں اور اس روپے کے ساتھ کفر پر بہت بڑا دھاوا بول سکتے ہیں اور اپنے تبلیغی پروگرام کو بہت زیادہ وسیع کر سکتے ہیں۔اگر ایک فیصدی کی بجائے ۱/۲ فیصدی بھی وصول کریں تو بھی پچیس لاکھ روپیہ وصول ہوسکتا ہے۔اور اگر ہم ۴ ۱٫ فیصدی وصول کریں تو بھی ہم را ۱۲ لاکھ روپیہ جمع کر سکتے ہیں اور ۱٫۴ فیصدی کی قربانی تو نہایت حقیر قربانی ہے۔بہار کے لوگوں کے حالات کو تم نے سن لیا ہے ان لوگوں نے ایک یا دو فیصدی مال دینے سے بخل سے کام لیا اور آخر تمام جائیدادوں اور جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔پس اگر آپ لوگ ایک فیصدی دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی جان کو اور اپنے مال کو محفوظ کرتے ہیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ بتاؤ تمہیں اپنا مال اچھا لگتا ہے یا دوسرے شخص کا مال اچھا لگتا ہے یا وہ مال اچھا لگتا ہے جو ضائع ہو گیا؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کا جواب تو بالکل صاف ہے کہ جو مال غیر کا ہے وہ غیر کا ہے اور جو مال ضائع ہو گیا وہ بھی ہاتھ سے نکل گیا انسان کو اپنا مال ہی اچھا لگتا ہے۔آپ نے فرمایا تو جو مال تم نے کھا لیا وہ ضائع ہو گیا اور جو مال تم نے رکھا ہوا ہے وہ جب تم مرو گے تو غیر لے جائیں گے تمہارا مال وہی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کیا ہے یا اگر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعت قربانی کے لئے تیار ہو جائے تو پچاس لاکھ روپیہ جمع کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔اپنی اپنی جماعتوں میں پہنچتے ہی اس تحریک کو جاری کرو اور کسی شخص کو اس تحریک سے باہر نہ رہنے دو۔یہ تو وصیت سے بھی سستا سودا ہے ہم ساری جائیداد تو مانگ نہیں سکتے کیونکہ ان تمام جائیدادوں کی قیمت کون دے گا۔ہمیں