خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 285

خطابات شوری جلد سوم ۲۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء اس پر بقیہ نمائندے کھڑے ہو گئے۔حضور نے فرمایا:۔اب آپ خود بھی جائیداد وقف کریں اور باقی جماعت کو بھی اس تحریک پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے رہیں۔وقف کی تحریک کو جاری ہوئے تین سال گزر چکے ہیں لیکن اب آکر قربانی کرنے کا موقع آیا ہے۔اگر ہماری جماعت اپنے فرض کو سمجھے تو پانچ دس لاکھ روپیہ کا جمع کرنا نہایت معمولی بات ہے ہماری جماعت کے پاس کم از کم دو ہزار مربعے ہیں اور ادنی اور اعلیٰ مربعوں کو ملا کر اگر فی مربع ۱۵ ہزار روپیہ اوسط لگائی جائے تو تین کروڑ کی جائیداد تو یہی بن جاتی ہے اگر اس کا ایک فیصدی لیا جائے تو صرف مربعوں والوں سے ہی تین لاکھ روپیہ مل سکتا ہے۔اور اگر دو فیصدی لیا جائے تو چھ لاکھ بنتا ہے۔پچھلے دنوں گورنمنٹ لوگوں سے لڑائی کے لئے بہت بھاری چندے وصول کرتی رہی ہے اور لوگ اُن چندوں کو ادا کرتے رہے ہیں پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایک مومن اسلام کی حفاظت کے لئے چندہ دینے سے گریز کرے۔شہروں کے مکانات بہت زیادہ قیمتی ہوتے ہیں اور وہ مربعوں سے بہت زیادہ قیمت رکھتے ہیں۔میرے نزدیک کم سے کم اندازہ بھی اگر ہماری جماعت کی جائیدادوں کا لگایا جائے تو وہ پچاس کروڑ سے کم نہیں ہوگا سوواں حصہ لیں تو پچاس لاکھ روپیہ بنتا ہے اور اگر ہم اس کا ہزارواں حصہ لیں تو بھی پانچ لاکھ روپیہ بہت آسانی سے جمع ہو سکتا ہے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ ساری جماعت وقف جائیداد میں شامل نہیں ہوئی اس لئے زیادہ بوجھ واقفین پر ہی پڑتا ہے۔مگر خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے زیادہ لمبی میعاد حصہ ادا کرنے کے لئے نہیں دی جاسکتی۔اگر کوئی شخص قسط وار ادا کرنا چاہے تو اُسے چاہیے کہ چھ ماہ کے اندر اندر اپنی وقف شدہ جائیداد کا سوواں حصہ خزانہ میں داخل کر دے۔چونکہ پہلے کی نسبت ہماری قادیان کی جائیدادوں کی قیمت بڑھ چکی ہے اس لئے میں اپنی طرف سے بیس ہزار روپیہ دوں گا۔دس ہزار روپیہ میں پہلے دے چکا ہوں ، دس ہزار اور دوں گا دفتر میں جو ریکارڈ ہے اُس کا ایک فیصدی کے حساب سے اٹھاون ہزار روپیہ بنتا ہے اور دس ہزار روپیہ میری طرف سے ہے یہ اڑسٹھ ہزار روپیہ ہو گیا اور اگر دوست اپنی ایک ایک ماہ کی آمد ادا کریں تو دو لاکھ روپیہ اس طرح وصول ہوسکتا ہے۔گویا پہلے وقف کے نتیجہ میں ہی ہمیں ۲۶۸۰۰۰ روپے کے قریب روپیہ وصول ہو سکے گا اور اگر اس وقت۔