خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 287
خطابات شوری جلد سوم ۲۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء سلسلہ کے کاموں کے لئے جتنی جتنی ضرورت پیش آئے گی اُتنا حصہ جائیداد کا مانگ لیا جائے گا ، ساری جائیداد کا یک دم مانگنا تو عقل کے بھی خلاف ہے ہم جب بھی مانگیں گے اُس کا ایک حصہ ہی مانگیں گے اور وہ کمی پھر ایک دو سالوں میں انسان پوری کر لیتا ہے اصل بات یہ ہے کہ تم جس قدر قربانی کی رفتار تیز کرو گے اُتنا ہی جلد منزلِ مقصود کے قریب ہوتے جاؤ گے یہ ایک سستا سودا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ تمہارے لئے جنت کا دروازہ کھول دیا ہے۔کوشش کرو کہ کوئی شخص اس تحریک میں شامل ہونے سے رہ نہ جائے اور جولوگ وقف میں شامل نہ ہونا چاہیں اُن سے اُن کی جائیداد کا نصف فیصدی لیا جائے۔آمد بھی نصف ماہ کی لی جائے میرا خیال ہے اس طرح پانچ لاکھ روپیہ آسانی سے جمع ہو جائے گا۔ہر احمدی وصیت کرے دوسری تجویز وصیتیوں کو بڑھانے کی ہے۔وصیت کے متعلق بھی جماعت میں تحریک کرنی چاہیے۔ہماری جماعت اڑھائی تین لاکھ کے قریب ہے لیکن اس میں سے صرف آٹھ دس ہزار لوگوں نے وصیت کی ہے تین لاکھ میں سے اگر نصف بچے سمجھ لئے جائیں تو بھی ابھی صرف بارہویں حصہ نے وصیت کی ہے اور اس بارہویں حصے کا چندہ وصیت تین لاکھ پچیس ہزار روپیہ ہے۔اگر ہم چھٹے حصے کی وصیت کرا دیں تو یہ چندہ چھ لاکھ پچاس ہزار روپے تک پہنچ جائے گا اور اگر ہم جماعت کے تیسرے حصے کی وصیت کرا دیں تو یہ چندہ تیرہ چودہ لاکھ تک پہنچ جائے گا اور یہ کام کوئی ایسا مشکل نہیں جس کے کرنے میں بہت سی مشکلات درپیش ہوں۔اگر تیرہ چودہ لاکھ روپیہ سالانہ حصہ آمد میں سے آنا شروع ہو جائے تو اس سے جماعت کے لئے ترقی کے بہت۔راستے کھل سکتے ہیں۔پس کوشش کرو کہ ہر ایک احمدی وصیت کرے گو یہ طوعی چیز ہے فرض نہیں لیکن اسلام پر جو مصیبت آئی ہوئی ہے وہ اُس وقت تک دور نہیں ہو سکتی جب تک ہم میں سے اکثر آدمی وصیت کے حکم کے نیچے نہیں آجاتے جب تک ہم وصیت نہیں کرتے اُس وقت تک صحیح معنوں میں قربانی کی طرف قدم اُٹھا ہی نہیں سکتے۔اگر ہمیں وصیت سے تیرہ چودہ لاکھ کی آمد ہو جائے تو ہم ایک ہزار دیہاتی مبلغین آسانی سے رکھ سکتے ہیں۔پانچ اور دس سال میں جماعت کہیں سے کہیں پہنچ سکتی ہے۔اب میں دوبارہ دوستوں کے لئے اس تحریک کو