خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 284
خطابات شوری جلد سو ۲۸۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء چلانے کی توفیق عطا فرمائی اور آج ہم اس کا بہت بڑا نمایاں فائدہ دیکھتے ہیں۔اکثر دوستوں نے یہ رقم جمع کرنے کے لئے واقفین جائیداد سے کچھ حصہ حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے اور ان کا مشورہ درست ہے لیکن جس چیز سے مجھے تکلیف ہوئی وہ یہ ہے کہ بعض دوست جنہوں نے یہ مشورہ دیا وہ خود واقف جائیداد نہ تھے۔کہتے ہیں حلوائی کی دکان اور دادا جی کی فاتحہ۔جن لوگوں نے جائیداد میں وقف کی ہیں ہمیں اُن کے متعلق یقین ہے کہ وہ انشاء اللہ اپنا حصہ ادا کریں گے لیکن جائیداد وقف کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ساری جماعت میں سے صرف دو ہزار افراد نے اپنی جائیدادیں وقف کی ہیں۔حالانکہ ہماری جماعت لاکھوں کی تعداد میں ہے اور لاکھوں کی جماعت میں سے ہزار دو ہزار کا جائیداد وقف کرنا کوئی نیک نام پیدا نہیں کرتا۔لاکھوں کی جماعت میں سے لاکھوں ہی قربانی کرنے والے ہوں تب ہی کچھ فائدہ ہو سکتا ہے اور پھر ان ہزار دو ہزار واقفین جائیداد میں سے بعض ایسے ہیں جن کی جائیداد لا کھ دو لاکھ کی ہے لیکن اُنہوں نے وقف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میرا فلاں کچا مکان وقف ہے۔اس قسم کا وقف، وقف نہیں کہلا سکتا لیکن ہم نے اُن کی اس ادنیٰ قربانی کو بھی قبول کر لیا کہ شاید آئندہ اللہ تعالیٰ اس تھوڑی قربانی کے نتیجہ میں اُن کے دلوں میں زیادہ ایمان پیدا کر دے۔مگر واقفین جائیداد میں سے بیشتر حصہ ایسا ہے جس نے سنجیدگی کے ساتھ جائیداد وقف کی ہے اور اس وقت تک ۱,۴۰٫۹۵۰۷۴ روپے کی جائیداد اور آمد وقف ہو چکی ہے۔اب میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے کتنے دوستوں نے جائیداد وقف کی ہے ایسے تمام نمائندے جنہوں نے جائیداد وقف کی ہو اور اُس کے ساتھ کسی قسم کی کوئی شرط نہ لگائی ہو کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۱۶۷ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا :۔اسی نسبت سے باقی جماعت کے متعلق قیاس کیا جاسکتا ہے۔۴۵۵ نمائندوں میں سے ۱۶۷ نمائندوں نے جائیداد وقف کی ہوئی ہے یہ نسبت قریباً چالیس فیصدی بنتی ہے۔جب آپ لوگ یہ پیش کرتے ہیں کہ واقفین جائیداد سے جائیداد کا حصہ طلب کیا جائے اور یہی سب سے آسان رستہ ہے تو آپ لوگ بتائیں کہ آپ خود کیوں پیچھے رہے۔اس وقت جو دوست جائیداد وقف کرنا چاہتے ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“