خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 281
خطابات شوری جلد سوم ۲۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء کی حالت اور رنگ کی ہے اور ہماری اور رنگ کی۔ان حالات میں میرا فرض تھا کہ میں آپ لوگوں کے مونہوں سے یہ کہلواؤں کہ آپ سے غلطی ہوئی ہے تا کہ آپ کے اندر بیداری پیدا ہو اور آپ کو اپنا فرض سر انجام دینے کی ہر وقت فکر رہے ورنہ میں جانتا ہوں کہ آسمانی ارادہ یہی ہے کہ یہ جماعت کامیاب ہو۔اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہماری چھوٹی سی جماعت اتنی بڑی قربانیاں کر رہی ہے کہ دنیوی جماعتوں میں اس کی مثال نہ مل سکے گی پس یہ غرض تو پوری ہو گئی اب سوال یہ ہے کہ یہ رقم کس طرح پوری کی جائے۔وہ تجاویز جو اس وقت دوستوں نے پیش کی ہیں اُن سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیں چندہ جمع کرتے کرتے بہت دیر لگ جائے اور ضرورت فوری طور پر سامنے آجائے۔کہتے ہیں تا تریاق آورده شود۔مارگزیده مُرده شود دوست اپناروپیہ بطور امانت قادیان بھجوائیں ممکن ہے کہ وقت ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے اور ممکن ہے کہ پانچ دس دن تک ہی ہمیں اس روپیہ کی ضرورت پیش آ جائے اس لئے ہمیں فوری طور پر ایسا طریق اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہماری فوری ضروریات پوری ہوسکیں۔اس کے لئے میں نے طریق سوچا ہے کہ دوستوں کا جس قدر روپیہ اپنی ضرورت سے زائد دوسرے بینکوں میں جمع ہے وہ امانت کے طور پر فوراً قادیان بھجوا دیں اور یہ ادنیٰ سے ادنیٰ قربانی ہے جس کا اُن سے مطالبہ کیا گیا ہے اس طرح اُمید ہے کہ ہمیں فوری طور پر پانچ چھ لاکھ روپیل جائے گا اور ایک دو سال کے بعد ہم اسے واپس کر دیں گے۔میرا خیال ہے کہ اس وقت باہر ہماری جماعت کا پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ جمع ہو گا اس لحاظ سے پانچ چھ لاکھ روپیہ کا فوراً جمع ہو جانا کوئی مشکل نظر نہیں آتا ، اگر ہماری یہ فوری ضرورت پوری ہو جائے تو ہم سانس لینے کے قابل ہو سکتے ہیں پس اس کے لئے میں تحریک کرتا ہوں کہ ہر احمدی اپنا جمع کردہ روپیہ بطور امانت قادیان بھجوا دے۔جب آپ لوگ جان اور مال کی قربانی کرنے کو تیار ہیں تو پھر امانتوں کا کچھ عرصے کے لئے یہاں جمع کرانا کونسی مشکل بات ہے۔اگر تمام احمدی اپنا بنک کا روپیہ بطور امانت یہاں بھیج دیں تو ہماری ضرورت بھی آسانی سے پوری ہو جائے گی اور ان کا امتحان بھی ہو جائے گا کہ آیا ان کے دلوں میں ایمان ہے یا نہیں۔