خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 282

خطابات شوری جلد سوم ۲۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء اگر دل میں ایمان ہے تو ہر احمدی اِس بات پر مطمئن ہوگا کہ میرا جو روپیہ قادیان میں ہوگا وہ ضائع نہیں ہوگا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قلعہ میں محفوظ ہوگا اور اللہ تعالیٰ خود اس کی حفاظت کرے گا۔اور جس کے دل میں ایمان نہیں ہوگا اُس کے دل میں شکوک وشبہات پیدا ہوں گے کہ پتہ نہیں مجھے روپیہ واپس ملے۔پس اس طرح صرف مرکز کی حفاظت ہی نہیں ہوگی بلکہ آپ لوگوں کے ایمانوں کی آزمائش بھی ہو جائے گی اب دوست اپنے وعدے لکھوائیں کہ وہ کتنا ر و پیر امانت کے طور پر یہاں جمع کرا سکتے ہیں۔“ اس کے بعد دوستوں نے وعدے لکھوانے شروع کر دیے۔جب دوست وعدے لکھوا چکے تو حضور نے فرمایا :۔اس وقت جن دوستوں نے وعدے لکھوائے ہیں اُن کو چاہیے کہ وہ جلد سے جلد اپنی رقوم امانت میں جمع کرا دیں کیونکہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں کب ضرورت پیش آ جائے۔تین لاکھ اکہتر ہزار روپے کے وعدے اس وقت تک آئے ہیں اور بعض دوستوں کے وعدے ابھی غیر معین ہیں اور کئی دوست ابھی سوچ رہے ہوں گے اور بعض دوستوں نے رقم جمع کرانے کی نیت تو کی ہوگی لیکن اپنا نام ظاہر نہ کرنا چاہتے ہوں گے اور ہزاروں ہزار دوست ابھی ایسے باقی ہیں جن کو اس تحریک کی اطلاع ہی نہیں جب اُن کو اطلاع ہوگی تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے ایمانوں اور اخلاص میں دوسروں سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ لوگ واپس جاکر اپنے فرض منصبی کو سمجھیں اور دوسرے دوستوں کو پورے طور پر یہ پیغام پہنچا دیں اگر یہ کام صحیح طور پر کیا جائے تو میں امید کرتا ہوں کہ یہ رقم مطالبہ سے کئی گنا زیادہ ہو جائے گی۔بدر کی جنگ میں صحابہ کی تعداد ۳۱۳ تھی اور دشمن کی تعداد ایک ہزار گویا ۳۱۳ صحابہ ایک ہزار سپاہیوں کے نرفعے میں گھر گئے صحابہؓ نے سمجھا کہ ہوسکتا ہے کہ ہم لوگ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے عہدہ برآ نہ ہو سکیں اور اللہ تعالیٰ کا منشاء کوئی اور ہو۔کیونکہ مومن جہاں اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھتا ہے وہاں اُسے اپنی کمزوریوں کا بھی احساس ہوتا ہے اور وہ اپنی کمزوریوں کو دیکھ کر ڈرتا ہے کہ کہیں میری کمزوریاں میری کامیابی کے راستہ میں روک نہ بن جائیں یا شائد اللہ تعالیٰ کا وعدہ کسی اور رنگ میں پورا ہونا ہو اس لئے صحابہؓ نے