خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 280
۲۸۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء خطابات شوری جلد سوم اور ابھی ہم نہیں جانتے کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ہندؤوں اور مسلمانوں کے یہ فرقہ وارانہ فسادات ابھی شروع بھی نہیں ہوئے تھے کہ مجھے ہند و مسلم لڑائی کے متعلق بتایا گیا چنانچہ پہلے بنگال میں فسادات ہوئے پھر بہار میں ہوئے اور پھر اس کے بعد یہ آگ پنجاب میں آپہنچی۔اس سے پہلے ۱۹۱۵ء میں میں نے ایک نظارہ دیکھا تھا کہ دریا میں طغیانی آگئی ہے اور شہر غرق ہوتے جارہے ہیں۔میں بھی دریا میں بہتا جا رہا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ ! سندھ میں تو میرے پیر لگ جائیں۔اس کے ایک معنی تو یہ تھے کہ وہاں احمدیوں کو زمینیں اور جائیدادیں مل جائیں گی اور اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ سندھ ہماری مضبوطی کا موجب ہوگا اور ہمیں وہاں قیام کرنے کے لئے جگہ ملے گی اور اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ پنجاب کو اشد ضرورت کے وقت سندھ سے مدد ملے گی۔میں جماعت کو یہ بتا نا چاہتا ہوں کہ ہمارے سوا دنیا میں ہر قوم کے لئے آزادی ہے مسلمانوں کا کعبہ اور ہندؤوں کی تیرتھ گا ہیں محفوظ ہیں کیونکہ یہ لوگ اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ اگر کوئی دشمن حملہ کرنا چاہے تو اُسے پہلے سوچنا پڑتا ہے لیکن ہم بہت تھوڑے ہیں۔نہ ہماری تعداد زیادہ ہے اور نہ ہمارے پاس طاقت ہے کہ جس سے ہم اپنی حفاظت کر سکیں اور ہم جہاں رہتے ہیں اُس کو چھوڑ بھی نہیں سکتے کیونکہ ہمارے یہاں مقدس مقامات ہیں اور مقدس مقامات کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔بیسیوں چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی ذات میں کوئی خاص عظمت نہیں رکھتیں لیکن آئندہ تبلیغ کے لئے اُن کا وجود ضروری ہوتا ہے مثلاً خواہ کتنا ہی عظیم الشان مکان ہو وہ ہر ایک انسان سے ادنیٰ ہوتا ہے اور ایک ادنیٰ سے ادنی مومن بہر حال اینٹوں اور پتھروں کی عمارت سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔مکہ کے ہزاروں ہزار پتھر ایک ادنیٰ سے ادنی مومن کے مقابلہ میں کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے لیکن خانہ کعبہ کو بچانے کے لئے اگر دس کروڑ کیا دس ارب مومن بھی قربان کر دیئے جائیں تو اس کے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔اُس وقت یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ یہ پتھر ہیں اور انسان کا وجود زیادہ قیمتی ہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ اس کا انہدام اسلام پر کیا اثر رکھتا ہے۔چونکہ اسلام اور مسلمانوں کی عظمت اور ان کی عقیدت کی وابستگی بیت اللہ کے ساتھ ہے اور شعائر اللہ میں داخل ہے اس لئے بیت اللہ کی حفاظت کے لئے اربوں ارب مسلمان بھی نہایت آسانی سے قربان کیا جاسکتا ہے۔پس دوسرے لوگوں