خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 255
خطابات شوری جلد سوم ۲۵۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء سخت تکلیف ہوتی ہے۔اس کے متعلق میں ناظر صاحب اعلیٰ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس شکایت کا انسداد کریں اور مناسب انتظام مسجد کے اندر کرا دیں۔میں نے اس کے متعلق خود بھی کئی بار منتظمین کو توجہ دلائی ہے مگر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا جو نہایت افسوس ناک امر ہے۔میرے نزدیک مسجد نور میں مشاورت کے تینوں ایام میں سائبانوں اور چٹائیوں کا انتظام ہونا ضروری ہے اور آئندہ اس قسم کی کوئی شکایت پیدا نہیں ہونی چاہیے۔“ اس کے بعد حضور نے فرمایا:۔چونکہ کوئی دوست اس تجویز کے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتے اس لئے جو دوست اس کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ ۳۱۰ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا :۔فیصلہ میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ اگر کوئی چندہ دہندہ بورڈ مندرجہ فقرہ نمبر ۲ کو جواب دینے سے انکاری ہو یا ایسے جوابات دے جو بورڈ کے نزدیک پوری حقیقت ظاہر کرنے والے نہ ہوں تو ایسے اصحاب کے متعلق وہی بورڈ از خود فیصلہ کر دے اور اس کی اپیل بھی اسی طرز پر ہوگی جس طرح فقرہ نمبر ۲ میں درج کی گئی ہے۔بجٹ کمیٹی نمبرا کی رپورٹ اور فیصلہ بجٹ کمیٹی نمبر 1 کی رپورٹ پیش ہونے پر حضور نے فرمایا:۔تجویز یہ ہے کہ پانچ کلرک صوبہ جات سرحد،سندھ ،اڑیسہ، بنگال اور بہار کے امراء کو دئے جائیں تا کہ وہ اچھی طرح کام کر سکیں۔اس کے لئے مجوزہ سالانہ رقم ۳۲۴۰ روپیہ ہے اور سب کمیٹی نے اس خرچ کی تائید کی ہے اس تجویز کے متعلق اگر کوئی دوست ترمیم پیش کرنا چاہیں تو لکھ کر دے دیں اور اگر کوئی دوست زبانی اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں تو وہ اپنے نام لکھا دیں دوست پہلے تو بیٹھے رہتے ہیں اور بعد میں کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے بھی ترمیم پیش کرنی تھی یہ طریق ٹھیک نہیں جس دوست نے ترمیم پیش کرنی ہو وہ ابھی پیش کر دے اور جن دوستوں نے زبانی اپنے خیالات کا اظہار کرنا ہو وہ بھی ابھی اپنا نام لکھا دیں۔“ حضور کے اس ارشاد پر صرف ایک صاحب نے رائے کا اظہار کیا۔اس پر حضور نے