خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 256
خطابات شوری جلد سوم ۲۵۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء فرمایا:۔چونکہ اور کوئی دوست اس کے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتے اس لئے میں یہ تجویز دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں کہ سب کمیٹی کی تجویز ہے کہ ۳۲۴۰ روپیہ کی سالانہ رقم صوبہ جات سرحد، سندھ ، اڑیسہ، بنگال اور بہار کے امراء کے کلرکوں کی تنخواہ قحط الاؤنس اور سٹیشنری وغیرہ کے اخراجات کے لئے منظور کی جائے جو دوست اس تجویز کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ فرمایا:۔اس پر ۳۳۷ دوست متذکرة الصدر تجویز کے حق میں کھڑے ہوئے۔حضور نے میں احباب کی تجویز کے مطابق کثرت رائے کے حق میں فیصلہ دیتا ہوں کہ صوبہ جات سرحد ،سندھ ، اڑیسہ، بنگال اور بہار کے امراء کے لئے جو پانچ کلرک رکھے جانے تجویز ہوئے ہیں اُن کے لئے اخراجات تنخواہ قحط الاؤنس اور سٹیشنری وغیرہ کے لئے ۳۲۴۰ روپیہ کی سالانہ رقم منظور ہے“۔تجویز نظارت تعلیم و تربیت دوسری تجویز نظارت تعلیم وتربیت کی طرف سے یہ تھی کہ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ اور ان ہر دو کے ہوسٹلوں کے واسطے جدید عمارت کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اس کے لئے فی الحال مناسب اراضی حاصل کرنے کے واسطے پچیس ہزار روپیہ کی رقم منظور ہونی چاہیے تا کہ اس سال مناسب قطعہ اراضی خریدا جا سکے ورنہ بعد میں مناسب اراضی کے حصول میں مشکلات پیش آنے کا اندیشہ ہے عمارت کی تجویز بعد میں کی جائے گی اور اراضی کے متعلق ضروری تفاصیل مشاورت میں پیش کر دی جائیں گی معہ تجویز نظارت علیاء کہ اس تجویز کے منظور ہونے کے ساتھ صدر انجمن احمدیہ کو یہ سہولت بھی ہو جائے گی کہ مدرسہ احمدیہ کی موجودہ جگہ کو انجمن دفاتر کے لئے استعمال کر سکے گی کیونکہ مسجد اقصیٰ کی تنگی کے پیش نظر دفاتر کی موجودہ جگہ جلد بدلنی پڑے گی“۔اس کے متعلق بجٹ کمیٹی نمبر 1 نے یہ رائے پیش کی کہ مدرسہ احمدیہ و جامعہ احمدیہ اور