خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 254
خطابات شوری جلد سوم سماعت ہوگی“۔۲۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء فرمایا: - نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد دوسرے اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی تو حضور نے نظارت بیت المال کی تجویز کا تیسرا حصہ یہ ہے کہ جو چندہ دہندہ بورڈ مجوزہ فقرہ نمبر ۲ (ایجنڈا) کے سوالات کا جواب دینے کے لئے تیار ہو یا ایسے جواب دے جو بورڈ کے نزد یک پوری حقیقت کو ظاہر کرنے والے نہ ہوں تو ایسے شخص کے متعلق ناظر صاحب بیت المال کو بورڈ کی رپورٹ پر از خود چندہ معین کرنے کا حق ہوگا مگر ناظر صاحب بیت المال کے ایسے فیصلہ کے خلاف چندہ دہندہ کو ناظر اعلیٰ کے پاس اپیل کرنے کا اختیار ہوگا۔اس بارہ میں سب کمیٹی نے یہ تجویز کیا کہ اگر کوئی چندہ دہندہ بورڈ مندرجہ فقرہ نمبر ۲ کو جواب دینے سے انکاری ہو یا ایسے جوابات دے جو بورڈ کے نزدیک پوری حقیقت ظاہر کرنے والے نہ ہوں تو ایسے اصحاب کے متعلق وہی بورڈ از خود فیصلہ کر دے اور اس کی اپیل بھی اسی طرز پر ہوگی جس طرح فقرہ نمبر ۲ میں درج کی گئی ہو گویا سب کمیٹی نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ بورڈ ہی ایسے لوگوں کے چندہ کی تشخیص کر دے اور اگر بورڈ کا فیصلہ صحیح نہ ہو تو ناظر صاحب اس کے متعلق اپیل کر سکتے ہیں جیسا کہ اس تجویز کے دوسرے حصہ میں فیصلہ کیا جا چکا ہے اس قاعدہ کے متعلق اگر کسی دوست نے کوئی ترمیم پیش کرنی ہو تو ابھی پیش کر دیں اور اگر کسی صاحب نے کچھ کہنا ہو تو اپنے نام لکھا دیں۔“ نہ تو کسی دوست نے ترمیم پیش کی اور نہ ہی زبانی کچھ کہنا چاہا۔حضور نے فرمایا:۔چونکہ کوئی دوست کھڑے نہیں ہوئے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ دوست اس کے متعلق کچھ کہنا نہیں چاہتے ہاں اگر کوئی دوست ترمیم لکھ رہے ہوں تو بتا دیں تا کہ مشورہ کے لئے پیش کر دی جائے۔“ اسی دوران میں حضور نے فرمایا:۔ایک دوست نے شکایت کی ہے کہ مشاورت کے ایام میں جمعہ کی نماز ختم ہوتے ہی مسجد نور میں سے سائبان اُتار لئے جاتے ہیں اور چٹائیاں بھی اُٹھالی جاتی ہیں اور چونکہ آجکل گرمی کے دن ہیں اس لئے سیمنٹ کا فرش سخت گرم ہو جاتا ہے اور نمازیوں کو