خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 253

خطابات شوری جلد سوم ۲۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء نمائندہ ہو اور تیسرا شخص غیر جانب دار ہو جو کسی قریبی جماعت سے لیا جائے اگر کوئی دوست اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتے ہوں تو وہ بھی اپنے نام لکھوا دیں۔“ بعض نمائندگان شورای کے اظہارِ خیالات کے بعد حضور نے فرمایا:۔ایک تو سب کمیٹی نمبر ۲ کی طرف سے ترمیم پیش کی گئی ہے اور ایک خادم صاحب کی طرف سے اور ایک غلام جیلانی صاحب کی طرف سے۔اب رائے شماری کے لئے میں پہلے غلام جیلانی صاحب کی ترمیم کو لیتا ہوں کہ ایک نمائندہ ناظر صاحب کا ہو اور ایک مقامی جماعت کا نمائندہ ہو اور ایک قریبی جماعت سے لیا جائے ، جو دوست ان کی ترمیم کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ صرف دو، دوست اس ترمیم کے حق میں کھڑے ہوئے۔اسکے بعد خادم صاحب کی یہ ترمیم پیش ہوئی کہ ایک بجٹ کمیٹی مقرر کی جائے جس کے تین ممبر ہوں اور تینوں مقامی جماعت کے ہوں اس ترمیم کے حق میں ۲۹ ووٹ تھے۔آخر میں سب کمیٹی نمبر ۲ کی ترمیم کو پیش کیا گیا کہ ایک ممبر ناظر صاحب بیت المال کا نمائندہ ہو اور باقی دو ممبر مقامی جماعت کی طرف سے منتخب شدہ ہوں۔حضور نے فرمایا:- جو دوست اس تجویز کے حق میں ہوں وہ کھڑے ہو جائیں۔“ اس پر ۲۵۳ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا: - فیصلہ میں کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں کہ تاجروں اور صناعوں اور پیشہ وروں کی آمد کی تعیین کے لئے جہاں ناظر صاحب بیت المال مناسب سمجھیں بورڈ مقرر کریں جس کا ایک ممبر نظارت بیت المال کا مقرر کردہ ہو اور باقی دو ممبران مقامی جماعت کی طرف سے منتخب شدہ ہوں۔اس بورڈ کا حق ہو گا کہ اپنے ممبران میں سے جس کو چاہے صدر مقرر کرے۔اُس کے سامنے چندہ کے تعین کے لئے تمام وہ کیس پیش ہوا کریں گے جو نظارت بیت المال اُس سال بورڈ کے سامنے پیش کرنا چاہے اور پھر اُس بورڈ کے اتفاق رائے سے فیصلے فریقین کے لئے واجب التعمیل ہوں گے۔وہ فیصلے جو کثرتِ رائے سے کئے جائیں گے اُن میں ہر فریق کو جو اُس فیصلہ سے اختلاف رکھتا ہو اپیل کرنے کا حق ہو گا جو صدرانجمن کے مقرر کردہ کسی فرد یا افراد ماسوائے ناظر صاحب بیت المال کے سامنے