خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 252
خطابات شوری جلد سوم ۲۵۲ جواب دیا کہ ساری مقامی جماعت مراد ہے۔) مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء اس بورڈ کا حق ہوگا کہ اپنے ممبران میں سے جس کو چاہے صدر مقرر کرے اور اُس کے سامنے چندہ کی تعیین کے لئے تمام وہ کیس پیش ہوا کریں گے جو نظارت بیت المال اُس سال بورڈ کے سامنے پیش کرنا چاہے اور پھر اُس بورڈ کے اتفاق رائے کے فیصلے فریقین کے لئے واجب التعمیل ہوں گے مگر وہ فیصلے جو کثرتِ رائے سے کئے جائیں گے اُس میں ہر 66 فریق کو جو اُس فیصلہ کی خلاف ورزی کرے گا ، اپیل کرنے کا حق ہو گا۔“ حضور نے ” خلاف ورزی کے الفاظ کے متعلق فرمایا : - اس سے سیکرٹری صاحب کی مراد یہ ہے کہ جو شخص اس فیصلہ سے اختلاف رکھتا ہوگا اُسے اپیل کا حق ہوگا۔چونکہ سیکرٹری صاحب نا تجربہ کار ہیں اس لئے اُنہوں نے یہ الفاظ غلطی سے لکھ دیئے ہیں جو صدرانجمن احمدیہ کے مقرر کردہ کسی فرد یا افراد ماسوا ناظر صاحب بیت المال کے سامنے سماعت ہوگی۔جو دوست اس کے متعلق خیالات کا اظہار کرنا چاہتے ہوں وہ اپنا نام لکھوادیں۔‘“ اس پر ملک عبدالرحمن صاحب خادم امیر جماعت احمد یہ گجرات نے ایک ترمیم پیش کی۔حضور نے فرمایا : - دو ملک عبدالرحمن صاحب نے ایک ترمیم پیش کی ہے ، اس کو بھی دوست مد نظر رکھیں وہ ترمیم یہ ہے کہ ایسی تمام جماعتوں میں جن میں ناظر صاحب بیت المال مناسب سمجھیں ایک بجٹ کمیٹی مقرر کی جائے جس کے تین ممبران ہوں گے جن کا انتخاب مقامی جماعت کرے گی۔یہ بجٹ کمیٹی جملہ ممبران جماعت مقامی کی آمدنی کی (اُن کی سابقہ سال کی آمدنی کو مد نظر رکھ کر ) تشخیص کرے اگر کسی فرد کو کمیٹی کی تشخیص پر اعتراض ہو تو وہ ناظر صاحب بیت المال کے پاس اس کے خلاف اپیل کر سکتا ہے“۔اس ترمیم کے متعلق بھی جو دوست اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتے ہوں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔نام لکھوائے جانے کے بعد حضور نے فرمایا :۔ایک تیسری ترمیم غلام جیلانی صاحب کی طرف سے آئی ہے وہ کہتے ہیں کہ کمیٹی کے تین ممبران میں سے ایک ناظر صاحب بیت المال کا نمائندہ ہو اور ایک مقامی جماعت کا