خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 10
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء آپ کو اس تکلیف کے رفع کرنے کا ایک آسان رستہ بتا دیتا ہوں اُس پر عمل کرنے سے آپ کا یہ غم اور دکھ فوراً دُور ہو جائے گا۔میرے سامنے اُس وقت چنار کا ایک درخت کھڑا تھا اور چنار کی لمبی شاخیں ہوتی ہیں میں نے کہا جب آپ دنیا سے ایسے ہی دل برداشتہ ہو چکے ہیں تو گھبراتے کیوں ہیں۔دُنیا کے غموں سے نجات حاصل کرنے کا آسان ترین طریق یہ ہے کہ آپ اس چنار کے درخت کی شاخ کا چھلکا اُتار کر اپنے گلے میں ڈال لیں اور اس درخت کی کسی موٹی سی ٹہنی سے لٹک کر مر جائیں، دنیا کے تمام دکھوں اور غموں سے آپ فوراً آزاد ہو جائیں گے۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ چند پیسوں کا سنکھیا خرید کر کھا لیں کیونکہ ممکن ہے آپ کہہ دیں میں غریب آدمی ہوں میرے پاس تو کوئی پیسہ نہیں میں سنکھیا کہاں سے خریدوں اور کس طرح دنیا کے مصائب سے نجات حاصل کروں۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ آگ میں گر کر اپنے آپ کو ہلاک کر دیں کیونکہ ممکن ہے آپ کہہ دیں میرے پاس اتنی طاقت بھی نہیں کہ میں دیا سلائی خریدوں ، لکڑیوں کا انبار جلانا تو دور کی بات ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ جائیں اور کسی دریا میں گود کر دنیا کے دُکھوں سے نجات پا جائیں کیونکہ مکن ہے آپ کہہ دیں میں کمزور آدمی ہوں مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں دریا تک چل کر جا سکوں۔آپ کے سامنے بالکل قریب پانچ سات قدم کے فاصلہ پر چنار کا درخت کھڑا ہے آپ اس کا چھلکا گلے میں ڈال کر اور اسی کی موٹی شاخ سے لٹک کر مر جائیں۔آپ دنیا کے تمام افکار اور تمام ہموم سے جنہوں نے آپ کی زندگی کو تلخ بنا رکھا ہے اور جن کی وجہ سے آپ خدا تعالیٰ کے فعل پر معترض ہو رہے ہیں آزاد ہو جائیں گے اور ہمیشہ کی راحت آپ کو حاصل ہو جائے گی۔میری یہ بات سن کر اس کا چہرہ غصہ سے سُرخ ہو گیا اور وہ کہنے لگا آپ تو مجھے گالیاں دیتے ہیں۔میں نے کہا میں نے کوئی گالی نہیں دی میں نے تو آپ پر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ میں دنیا کے مصائب سے تنگ آ گیا ہوں تو آپ غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔دنیا آپ کو بھی پیاری ہے اور آپ بھی نہیں چاہتے کہ اس دنیا سے نجات حاصل کریں۔اگر حقیقت میں دنیا ایک مصیبت ہوتی ، ایک آفت اور ایک بلاء ہوتی تو آپ ایک منٹ کے لئے بھی اس دنیا میں رہنا برداشت نہ کر سکتے مگر آپ کا اس دنیا میں رہنا اور اس دنیا سے نکلنے کے لئے کوشش نہ کرنا بلکہ اگر اس دنیا سے نکلنے کا آپ کو