خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 9
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارا خدا زندہ ہے اور وہ کبھی نہیں مرے گا۔تو خدا اپنے مومن بندوں کو کئی قسم کے ابتلاؤں میں سے گزارتا ہے وہ چاہتا ہے کہ اُن کے ایمان کا امتحان لے، اُن کے عشق کا نمونہ دنیا پر ظاہر کرے اور ابتلاؤں اور آفات پر ثابت قدم رہنے کے نتیجہ میں اُن پر انعامات کی بارش نازل کرے اسی لئے وہ اُن کو ایسے نازک حالات میں ڈالتا ہے کہ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے اُن کے لئے موت کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے مگر مومن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جہاں اُس کا دل ان صدمات کی وجہ سے خون بہا رہا ہوتا ہے وہاں اُس کا قدم دلیری سے عشق و وفا کے میدان میں آگے بڑھ رہا ہوتا ہے۔وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کے قلب کی کیا کیفیت ہے اور کس طرح اُس کا دل صدمات کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے۔وہ ایک ہی بات جانتا ہے کہ میں نے آگے بڑھ کر اپنے رب کے آستانہ پر قربان ہو جانا ہے۔آخر ہمیں غور کرنا چاہئے کہ اگر واقعہ میں دنیا کے صدمات اور رنج ہمارے دلوں کا احاطہ کئے ہوئے ہیں تو ان صدمات اور غموں۔آزاد ہونے کا اس سے بڑھ کر اور کونسا طریق ہو سکتا ہے کہ اسلام اور احمدیت کی راہ میں ہم اپنے نفوس کو قربان کر دیں اور اس عارضی حیات کو ابدی اور دائمی حیات میں تبدیل کر لیں۔میرے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور وہ مجھے کہنے لگا دنیا کتنے بڑے غموں اور ابتلاؤں کی جگہ ہے اور خدا نے ہمیں اس دنیا میں پیدا کر کے کتنی بڑی مصیبت میں ڈال دیا ہے کہ ہر طرف رنج اور بلائیں اور مصیبتیں اور دکھ ہی دکھ ہیں اور عذاب ہی عذاب چاروں طرف نظر آتا ہے۔کوئی چیز بھی تو ایسی نہیں جو حقیقی سکھ اور راحت کا موجب ہو اور جب حالت یہ ہے تو خدا نے ہمیں اس دنیا میں کیوں پید کیا ؟ میں نے اُسے بار بار سمجھایا کہ تمہارا یہ نظریہ درست نہیں۔دنیا محض مصائب اور آلام کی جگہ نہیں بلکہ ترقی کا ایک زینہ ہے جو ہمارے سامنے رکھا گیا ہے مگر وہ اتنا بھرا بیٹھا تھا کہ میرے اس توجہ دلانے کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بار بار یہی کہتا چلا گیا کہ آخر خدا کو یہ کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ وہ مجھے اس دنیا میں بھیجتا۔میں مانتا ہوں کہ دنیا میں کچھ راحت اور آرام کے سامان بھی ہیں مگر اس راحت اور آرام کے باوجود میں اس دنیا کے مصائب سے تنگ ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدا مجھے اس دنیا میں کیوں لایا۔جب میں نے اُس کی یہ دماغی کیفیت دیکھی تو میں نے کہا میں