خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 11

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء کوئی راستہ بتایا جائے تو آپ کا اسے اپنی ہتک سمجھنا بتا رہا ہے کہ آپ بھی اس دنیا کو راحت اور آرام کا موجب سمجھتے ہیں۔اور گومنہ سے یہی کہتے ہیں کہ خدا نے بڑا ظلم کیا کہ آپ کو اس دنیا میں اُس نے بھیج دیا لیکن حقیقت اس کے خلاف ہے۔آپ کا دل محسوس کرتا ہے کہ میری زبان جو کچھ کہہ رہی ہے وہ غلط ہے کیونکہ میں اس ظلم سے بچنے کی کوئی کوشش نہیں کر رہا حالانکہ میرے سامنے ایسے راستے موجود ہیں جن پر چل کر میں اپنے آپ کو اس ظلم کا مورد بننے سے محفوظ رکھ سکتا ہوں۔گزشتہ دنوں جب میں لاہور میں تھا تو ایک ایم۔اے کا سٹوڈنٹ مجھ سے ملنے کے لئے آیا اور اس نے بھی میرے سامنے اسی بات کو پیش کیا کہ دنیا بڑے مصائب کا مقام ہے اور میں نہیں سمجھ سکا کہ خدا نے ایسے مقام میں ہمیں کیوں بھیج دیا؟ میں نے اُسے یہی قصہ سنایا اور بتایا کہ میں نے ایک شخص کو جو یہی اعتراض لے کر آیا تھا یہ علاج بتایا تھا مگر وہ اُلٹا ناراض ہو گیا اور کہنے لگا آپ مجھے گالیاں دے رہے ہیں حالانکہ اگر واقع میں دنیا مصائب کا مقام ہے تو وجہ کیا ہے کہ اس دنیا سے نجات حاصل کرنے کا طریق اختیار نہیں کیا جاتا۔یہ طالب علم پہلے سے زیادہ ہوشیار تھا۔کہنے لگا اُس کا ناراض ہونا تو درست نہیں تھا لیکن آپ مجھے بتا ئیں اگر میں خود کشی کرلوں تو کیا آپ مان لیں گے کہ یہ دنیا مصائب و آلام کی جگہ ہے؟ میں نے کہا صرف تمہاری خود کشی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا کیونکہ دنیا میں بعض لوگ پاگل بھی ہوتے ہیں اور عقل مند اُن کے پیچھے چلا نہیں کرتے۔اکثریت ہی ہے جس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ عقل سے کام لے رہی ہے۔پس اگر دنیا کی اکثریت خود کشی کر لے تو پھر بے شک میں مان لوں گا کہ دنیا میں غم ہی غم ہے، دکھ ہی دُکھ ہے، تکلیف ہی تکلیف ہے اور رنج ہی رنج ہے لیکن اگر اکثریت دنیا میں رہنے پر خوش ہے، اگر اکثریت دنیا میں رہنا اپنے لئے کسی عذاب کا موجب نہیں سمجھتی تو استثنائی طور پر اگر کوئی شخص اپنی دماغی خرابی کی وجہ سے دنیا کو مصیبت کی جگہ سمجھتا ہے اور اس خیال کے غالب آجانے کی وجہ سے وہ خود کشی بھی کر لیتا ہے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے جس مقصد کے لئے خود کشی کی تھی وہ صحیح اور درست تھا۔ہاں اگر ساٹھ فی صدی لوگ خود کشی کر لیں تو پھر بے شک میں مان لوں گا کہ دنیا مصیبت کی جگہ ہے کیونکہ اکثریت نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس دنیا میں