خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 243

خطابات شوری جلد سوم ۲۴۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء حضور کے ارشاد پر ناظر صاحب اعلیٰ نے گزشتہ فیصلہ جات کی تعمیل جبکہ پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے اضافہ بجٹ سے متعلق رپورٹ پیش کی۔نیز پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے رد شدہ تجاویز پڑھ کر سنائیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا :- ” ناظر صاحب اعلیٰ نے گزشتہ شوری کے فیصلہ جات کے متعلق جو ر پورٹ سُنائی ہے اُس کا ایک حصہ نامکمل معلوم ہوتا ہے جس کے متعلق میں ہدایت دینا چاہتا ہوں۔رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس سال جو تجاویز مختلف صیغہ جات کی طرف سے مشاورت میں پیش ہونے کے لئے آئی تھیں اُن کے متعلق صدر انجمن احمدیہ نے بعد غور قابل منظوری تجاویز کو اپنے الفاظ میں ڈھال دیا تھا اور بعض کو رڈ کر کے واپس کر دیا تھا۔میرے نزدیک جہاں تک محکموں کی تجاویز کا تعلق ہے اُن کو تو اپنے الفاظ میں ڈھال کر پیش کیا جاسکتا ہے لیکن جو تجاویز باہر سے موصول ہوں اُن کو اصل الفاظ میں ہی لکھنا چاہیے کیونکہ وہ لوگ صدرانجمن احمدیہ کا حصہ نہیں۔نظارت امور عامہ کی طرف سے تجار کمیٹی کے انعقاد کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اس کے کاغذات مجھے بھجوائے گئے ہیں۔اگر وہ میرے سندھ کے سفر کے دوران بھجوائے گئے ہیں تو وہ فی الحال بند ہونگے اور اگر اس سے پہلے بھجوائے گئے ہیں تو اس قسم کا کوئی کاغذ میرے پاس نہیں آیا۔وضو کے متعلق جو میری ہدایت تھی اُس کی تعمیل میں یہ کہا گیا ہے کہ ہم نے وضو کے لئے مسجد مبارک کے سامنے ملکہ لگا دیا ہے لیکن مجھے اس ملکہ کے لگانے پر اعتراض ہے۔وہ نلکہ ایسی جگہ لگایا گیا ہے جو کہ صدر انجمن کی زمین نہیں اور پھر وہ مالکوں سے پوچھے بغیر ہی لگا دیا گیا ہے۔شرعی طور پر اس طرح پن پوچھے کسی کی ملکیت میں دخل دینا منع ہے۔اگر کوئی اپنی ساری جائیداد دیدے تو یہ اُس کی مرضی ہے لیکن ان کی مرضی کے بغیر ایک پیسہ لینا بھی جائز نہیں اور پھر وہ نلکہ عین گلی کے وسط میں لگایا گیا ہے۔جس سے عورتوں کو گزرنے میں خاص طور پر بہت تکلیف ہوتی ہے۔ملکہ لگا کر نصف سے زیادہ گلی پاٹ دی گئی ہے۔وہ گلی ہماری مشترکہ ہے لیکن ہم میں سے کسی سے بھی پوچھا تک نہیں گیا اس طرح بغیر پوچھے کسی کی ملکیت میں تصرف کرنا نا جائز ہے اور آئندہ ظلم و تعدی کی بنیاد ڈالنا ہے۔