خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 244

خطابات شوری جلد سوم ۲۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء فیصلہ جات کی تعمیل میں یہ بتایا گیا ہے کہ میں نے ۹۶۰ روپے کی بجائے ۱۹۲۰ روپے کی جامعہ نصرت کے لئے منظوری دی لیکن بجٹ اس کے خلاف کہتا ہے۔بجٹ صفحہ ۱۷ پر ۱۹۲۰ کی رقم نصرت گرلز کی مد میں دکھائی گئی ہے۔میں نے یہ رقم جامعہ نصرت یعنی دینیات کی کلاسز کے لئے منظور کی تھی لیکن یہ رقم انگریزی حصہ پر خرچ کر دی گئی ہے۔یہ خرچ میرے حکم کی تعمیل نہیں بلکہ میرے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔میں نے جامعہ نصرت کے لئے اس رقم کی منظوری دی تھی لیکن یہ رقم خرچ نصرت گرلز سکول پر ہوئی ہے۔اخبار الفضل کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ میں نے اس کی قیمت بڑھانے کی اجازت دی تھی اور اس کے مطابق اب قیمت بڑھا دی گئی ہے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ اخبار کا حجم پہلے کی نسبت کم کر دیا گیا ہے اور قیمت بڑھا دی گئی ہے۔میں نے کہا تھا کہ اس کا حجم بھی بڑھایا جائے لیکن آدھے حصہ کی تعمیل کی گئی ہے اور آدھے حصہ کی تعمیل نہیں کی گئی۔پچھلے دنوں تو الفضل صرف دو دو صفحے کا نکلتا رہا ہے اور عام حالات میں بھی اس کا حجم دوسرے اخباروں سے کم ہے۔نوائے وقت اور انقلاب ان دونوں کے صفحات الفضل سے ڈبل ہیں۔الفضل آٹھ صفحے کا چھپتا ہے اور وہ بارہ بارہ سولہ سولہ صفحے کے چھپتے ہیں۔الفضل کی مشکلات کی وجہ یہی ہے کہ اس نے وقت پر کوٹا منظور نہیں کرایا اور اب اس کی سز ا سلسلہ کو دی جارہی ہے۔باہر کے اخباروں کی خریداری بڑھنے کے باوجود اُنہیں کاغذ کی دقت پیش نہیں آتی۔دہلی کے بعض اخبار جو باوجود اپنی خریداری کے بڑھ جانے کے اپنا کاغذ دوسروں کے پاس فروخت کرتے رہتے ہیں لیکن الفضل نے وقت پر اپنا کوٹہ بہت کم منظور کرایا اور اپنی آئندہ کی خریداری کو مدنظر نہ رکھا اور اب وہ اس سے زیادہ شائع نہیں کر سکتے۔انجمن کو آئندہ ایسے نقائص دور کرنے چاہئیں۔واقفین اور گزارہ الاؤنس کے فارغ التحصیل طلباء کے متعلق گریڈوں کا جو سوال اُٹھا ہے اس کی وجہ درحقیقت مبلغین اور جامعہ احمدیہ یہ ہے کہ صدر انجمن نے اس سے پہلے واقفین کے لینے سے انکار کر دیا تھا۔آج سے دس سال پہلے میں نے صدر انجمن کے سامنے یہ سکیم رکھی تھی کہ صدر انجمن احمد یہ میں واقفین لئے جائیں لیکن صدر انجمن نے اس وقت کہا کہ ہمیں واقفین کی ضرورت نہیں۔میں نے کہا تھا