خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 242

خطابات شوری جلد سوم ۲۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء وجہ نہیں۔دونوں ایک ہی غرض اور ایک ہی مقصد رکھتی ہیں اگر جائیداد میں وغیرہ خرید لی گئیں تو اس رنگ میں ریز روفنڈ قائم ہو جائیگا اور اگر نہ خریدی گئیں تو روپیہ بچ جائے گا۔پس میرے نزدیک بڑی آسانی کے ساتھ اس سال ریز روفنڈ کو اڑایا جاسکتا ہے۔لفظ بیشک قائم رہے مگر آگے یہ لکھ دیا جائے کہ اس سال ہم یہ روپیہ فلاں فلاں اغراض کیلئے خرچ کر رہے ہیں اس خرچ کو الگ دکھانے کی ضرورت نہیں۔اس طرح ہمارا بوجھ نسبتاً ہلکا ہو جائیگا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس سال۔۵۳۴۵۹۲۷ روپیہ کا زائد بوجھ ہماری جماعت پر ہے اگر اس میں سے زمینوں اور دکانوں وغیرہ کا روپیہ اور ادائیگی حصص کارخانہ دی یحیی آتلز کا روپیه پیہ جسکی مجموعی میزان ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار پانچ سو روپیہ بنتی ہے نکال دیا جائے تو باقی ۳۶۸۰۹۲ روپے رہ جاتے ہیں جو اس سال ہماری جماعت کو علاوہ اور چندوں کے ادا کرنے پڑینگے اور چونکہ یہ بہت بڑا بوجھ ہے اس لئے ہمیں کوئی نہ کوئی ایسی تجویز کرنی پڑیگی س سے یہ رقم پوری ہو جائے۔سب کمیٹی اس بارہ میں اپنا نقطہ نگاہ پیش کریگی۔میں بھی غور کر رہا ہوں اور جب سب کمیٹی اپنی تجاویز پیش کریگی تو انشاء اللہ بعض تجاویز اس سلسلہ میں بیان کرونگا۔میرے نزدیک بجٹ میں بعض کمیاں بھی ہوسکتی ہیں اور بعض اور ذرائع آمد بھی ایسے ہو سکتے ہیں جن سے چندوں میں تخفیف ہو جائے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ بجٹ کمیٹی اس پر پورا غور کرے گی ، اسی طرح دوسرے دوست بھی غور کرینگے تا ہمارا یہ سال ایسی شکل اختیار نہ کر لے جو ہماری آئندہ ترقی کے راستہ میں روک بن جائے اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو ہماری تمام سکیمیں پراگندہ ہو جائینگی اور اُن کے پورا ہونے کی کوئی صورت نہیں رہے گی۔میں اُمید کرتا ہوں کہ دوست کل وقتِ مقررہ پر آجا ئینگے تا کہ کام کو جلد شروع کیا جا سکے۔اب اسکے بعد اس وقت کا اجلاس برخاست کیا جاتا ہے۔مغرب اور عشاء کی نمازیں انشاء اللہ جمع ہونگی۔ضیافت والوں کو چاہیئے کہ وہ دوستوں کو جلد کھانا کھلا دیں تا کہ سب کمیٹیاں آٹھ بجے اپنا اپنا کام شروع کرسکیں۔“ 66 دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن مؤرخہ ۱٫۵ پریل ۱۹۴۷ء کو پہلا اجلاس شروع ہوا تو