خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 241
خطابات شوری جلد سوم ۲۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء کرنا پڑیگا۔یہ زائد چندہ جس کا اس سال جماعت پر بار پڑیگا۔۵۳۴۵۹۲ روپیہ ہے۔گویا پچاس فیصدی زیادتی اس سال کی گئی ہے اور پچاس فیصدی زیادتی کوئی معمولی زیادتی نہیں ہوتی اور نہ اس کو پورا کرنے کے لئے کوئی معمولی جدوجہد کافی سمجھی جاسکتی ہے۔میرے خیال میں اگر غور کیا جاتا تو ایک طرف بچت کی بہت سی صورتیں پیدا کی جاسکتی تھیں اور دوسری طرف آمد کی کئی صورتیں نکالی جاسکتی تھیں۔بہر حال یہ کام تو بجٹ کمیٹی کا ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ ایسی تدابیر نکالے جن سے یہ زیادتی پوری ہو سکے۔البتہ ایک چیز ہے جسے آسانی سے وہ بجٹ میں سے کاٹ سکتے ہیں اور اسطرح یہ بوجھ کسی قدر کم ہوسکتا ہے۔انہوں نے خرچ کے ماتحت ریز روفنڈ میں دو لاکھ روپیہ رکھا ہوا ہے۔ریز روفنڈ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ سلسلہ کے مفاد کے لئے اگر کسی جائیداد کا خرید ناضروری ہوتو وہ اس روپیہ سے خرید لی جائے یا اسے کسی نفع بخش کام پر لگا دیا جائے تاکہ اس کی آمد سلسلہ کو مستقل طور پر حاصل ہوتی رہے مگر اس سال بجٹ میں۔۸۴۰۰۰ ہزار روپیہ کی ایک رقم بعض تجارتی کارخانوں میں حصہ لینے کیلئے رکھی گئی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ریز روفنڈ کا ہی خرچ ہے کیونکہ سلسلہ کے پاس جب کوئی زائد رقم جمع ہو جاتی ہے تو اسے بعض اور کاموں میں لگا دیا جاتا ہے تا کہ اس سے نفع حاصل ہوتا رہے۔اسی طرح۔۴۲۵۰۰ روپیہ زمین کی خرید کیلئے رکھا گیا ہے۔یہ بھی آمد پیدا کرنے والی چیز ہے۔صرف بار نہیں جو جماعت پر پڑ رہا ہو کیونکہ وہ جائیداد جو اس روپیہ سے خریدی جائیگی آج سے دس سال بعد پانچ چھ لاکھ روپیہ کی ہو جائیگی۔پس ۸۲۰۰۰ ہزار روپیہ وہ اور ۴۲۵۰۰ روپیہ یہ ایک لاکھ ۲۶ ہزار پانچ سو روپیہ ہو گیا۔اسی طرح مجوزہ غیر معمولی اخراجات میں چالیس ہزار روپیہ ریتی چھلہ میں دکانیں بنانے کے لئے رکھا گیا ہے۔اگر یہ روپیہ بھی شامل کر لیا جائے تو ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار پانچ سو روپیہ بن جاتا ہے اور ریز روفنڈ میں دولاکھ روپیہ رکھا گیا ہے گویاریز روفنڈ والی رقم کے قریب قریب یہ اخراجات ہیں اور چونکہ یہ روپیہ یا تو سلسلہ کے لئے بعض جائیدادیں خریدنے پر صرف ہوگا یا بعض تجارتی کمپنیوں میں اس سے حصہ لیا جائے گا۔اور یہی ریز روفنڈ کی غرض ہوتی ہے، اس لئے میرے نزدیک اگر اس سال ریز روفنڈ کو اُڑا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا کیونکہ بہر حال یہ دونوں چیزیں متوازی ہیں اور ان کو الگ الگ رکھنے کی کوئی