خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 240
خطابات شوری جلد سوم ۲۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء بجٹ کے متعلق ہدایت افتتاحی تقریر کے بعد حضور نے ۴ سب کمیٹیاں مقرر فرمائیں اور بجٹ کے متعلق فرمایا : - میں ایک بات بجٹ کے متعلق سب کمیٹی کے اجلاس سے پہلے ہی کہہ دینا چاہتا ہوں تا کہ وہ حصہ کمیٹی کے لئے کسی تشویش کا موجب نہ بنے۔بجٹ ممکن ہے دوستوں نے ابھی پورے طور پر نہ دیکھا ہو۔مجھے خود یہ بجٹ آج گیارہ بجے ملا ہے۔مگر پھر بھی جن دوستوں نے بجٹ کو سرسری طور پر بھی دیکھا ہوگا اُنہیں معلوم ہو چکا ہوگا کہ اس دفعہ کے بجٹ کی کیا حالت ہے۔ایک رقم تو اس میں درج نہیں حالانکہ وہ رقم بجٹ میں ضرور شامل کرنی چاہئے تھی یعنی وہ رقم جو حفاظت قادیان کے متعلق ہے۔اس غرض کے لئے دولاکھ روپیہ چندہ کی جماعت میں تحریک کی جاچکی ہے مگر یہ رقم بجٹ میں درج نہیں۔بہر حال وہ رقم تو ہم نے ضرور پوری کرنی ہے۔اس کے علاوہ اُن کی یہ تجویز ہے کہ اس دفعہ۔/۳۸۸۲۷۹ روپیہ چندہ خاص جمع کیا جائے۔گویا حفاظت مرکز کی رقم کو شامل کر کے یہ روپیہ۔/۵۸۸۲۷۹ ہو گیا۔پھر انہوں نے آمد بذریعہ چندہ تعلیم الاسلام کالج کے ماتحت۔/۱۴۶۳۱۳ کی رقم رکھی ہے۔گویا سات لاکھ چونتیس ہزار پانچ سو بانوے روپیہ علاوہ تحریک جدید اور دوسرے فرضی چندوں کے اس سال اکٹھا کرنا جماعت کے ذمہ لگایا گیا ہے۔اس لئے گل آمد۔۱۶۹۳۹۴۲ تجویز کی گئی ہے۔اگر اس میں سے چندہ خاص۔۳۸۸۲۷۹ اور آمد بذریعہ چندہ تعلیم الاسلام کالج - ۱۴۶۳۱۳ جن کی مجموعی میزان - ۵۳۴۵۹۲۷ بنتی ہے، نکال دی جائے تو باقی /۱۱۵۹۳۵۰ رہ جاتے ہیں۔گویا اس سال جو زیادتی کی گئی ہے وہ علاوہ حفاظت قادیان کے چندہ کے پچاس فیصدی ہے۔“ اس موقع پر جناب ناظر صاحب بیت المال نے بتایا کہ مطبوعہ بجٹ کے صفحہ 9 پر ایک لاکھ پچھہتر ہزار روپے حفاظت مرکز و بہار ریلیف فنڈ کے عنوان کے ماتحت درج ہے اور یہ رقم بھی بجٹ میں شامل کر لی گئی ہے۔حضور نے فرمایا:۔تب بھی جو زیادتی کی گئی ہے وہ پچاس فیصدی ہے یعنی ہماری آمد -/۱۱۵۹۳۵۰ ہے اور ہمارا خرچ اس سال۔۱۶۹۳۹۴۲ ہوگا۔اس کے لئے۔۳۸۸۲۷۹ روپیہ یہ ہمیں ایک طرف اکٹھا کرنا پڑیگا اور دوسری طرف۔/۱۴۶۳۱۳ روپیہ تعلیم الاسلام کالج کیلئے جمع