خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 239
خطابات شوری جلد سوم ہم میں وہ شخص موجود نہیں جس نے یہ کہا تھا: ۲۳۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء دنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خُدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔بلکہ اُس سے ادنیٰ اور مجھ جیسے کمزور شاگرد دنیا میں پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کے قدم حوادث میں ڈگمگا جاتے ہیں پھر بھی خدا کی وہ آواز جو مرزا غلام احمد کی زبان سے بلند ہوئی تھی وہ اب زیادہ سے زیادہ دنیا میں گونج پیدا کرتی چلی جارہی ہے اور دشمن بھی محسوس کر رہا ہے کہ یہ الفاظ رائیگاں جانے والے نہیں۔خدا تعالیٰ کے زور آور حملے بڑے زور سے ظاہر ہوئے اور اس رنگ میں ظاہر ہوئے کہ ہماری حالت پر ہنسنے والا دشمن بھی مرعوب ہوتا چلا جا رہا ہے۔اُسے خدا کی آواز جو ایک گمنام بستی سے بلند ہوئی تھی۔دنیا کے کناروں تک پھیلتی ہوئی سنائی دے رہی ہے۔وہ پھٹی ہوئی آنکھوں اور اُترے ہوئے چہرہ کے ساتھ ہمیں دیکھ رہا ہے اور محسوس کر رہا ہے کہ یہ آواز اپنے اندر الہی ہیبت رکھتی ہے۔مگر یہ نور اُسے رکن چہروں سے نظر آیا ؟ اُن چہروں سے جو مرزا غلام احمد جیسی نورانیت اپنے اندر نہیں رکھتے ، اُن لوگوں سے جو مرزا غلام احمد جیسی طاقت اپنے اندر نہیں رکھتے۔پس آج کا دشمن پہلے دشمن سے بہت زیادہ ہوشیار ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ان حالات کو اپنے سامنے رکھ کر اُن کے مطابق اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں۔غرض ہمارے کام کی نوعیت اس کی اہمیت اور ہمارے راستہ میں پیش آنے والی مشکلات کی فراوانی اور زیادتی بلکہ بے انتہاء فراوانی اور زیادتی ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم بڑے غور اور فکر اور سنجیدگی کے ساتھ ان مسائل پر غور کریں اور ایک مخلص، دیانتدار اور قربانی و ایثار کی روح رکھنے والے انسان کی طرح ہم میں سے ہر شخص یہ فیصلہ کرے کہ سلسلہ کی اشاعت کے لئے اگر مجھے اپنی جان بھی قربان کرنا پڑے تو مجھے اس کی قربانی سے دریغ نہیں ہوگا۔ایسے دل اور ایسے عزم کے ساتھ ہماری جماعت کے افراد کو آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر ہم کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔“ اخبار بدر قادیان ۱۵ تا ۲۲ دسمبر ۱۹۶۰ء)