خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 238
خطابات شوری جلد سوم ۲۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے ہمیں دیکھ رہا ہے اور وہ بھی اس حقیقت کو اب بھانپ گیا ہے کہ یہ جماعت بڑھنے والی جماعت ہے۔یہ جماعت ترقی کرنے والی جماعت ہے یہ جماعت دنیا پر چھا جانے والی جماعت ہے یہ احساس جو دشمن کے قلب میں پیدا ہو چکا ہے اور یہ بیداری جو اُس میں پائی جاتی ہے یہ پہلے زمانہ میں نہیں تھی۔پہلے زمانہ میں اگر کوئی شخص ہماری جماعت کی مخالفت بھی کرتا تو وہ سمجھتا کہ یہ لوگ کیا چیز ہیں میں چٹکیوں میں ان کو مسل دوں گا میں اُنگلیوں میں ان کو ریزہ ریزہ کر دوں گا۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی کہہ دیا کہ میں نے ہی مرزا صاحب کو بڑھایا تھا اور میں ہی انہیں نیچے گراؤں گا لے مگر آج جو شوکت اور طاقت ہمیں حاصل ہے اور جو عظمت اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں عطا فرمائی ہے وہ ایسی نمایاں ہے کہ دشمن ہمیں کن اکھیوں سے دیکھنے لگ گیا ہے۔اس کی غیظ آلود اور ترچھی نگاہیں ہم پر پڑنی شروع ہو گئی ہیں اور اُس کے دل میں بھی یہ احساس پیدا ہونے لگ گیا ہے کہ یہ جماعت اب کچھ کر کے رہے گی اس کو مٹانے کے لئے زیادہ قوتِ عمل اور زیادہ تنظیم اور زیادہ فکر سے کام لینا چاہیے۔گویا ہماری پیدا شدہ طاقت کو اب خدا تعالیٰ ظاہر کر رہا ہے۔دشمن پہلے سے بہت زیادہ ہوشیار ہو رہا ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم اس نہایت ہی نازک دور میں اپنے قدم پوری مضبوطی سے میدانِ عمل میں بڑھاتے چلے جائیں اور اس امر کی کوئی پرواہ نہ کریں کہ اس کا کیا انجام ہوگا۔آج خدا نے ہماری طاقتوں کو ہمارے دشمن پر ظاہر کر دیا ہے اس لئے پہلے سے بہت زیادہ ہوشیاری ، بہت زیادہ قربانی اور بہت زیادہ بیداری کی ضرورت ہے۔پہلے زمانہ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے سامنے یہ اعلان کیا کہ: دنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خُدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کر دے گا تو دشمن نے ہنس کر کہا یہ پاگل ہو گیا ہے، اس بے چارے کی عقل ماری گئی ہے، اس کے حواس ٹھکانے نہیں رہے، کیا بہکی بہکی باتیں ہیں جو یہ کر رہا ہے مگر آج با وجود اس کے کہ