خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 237
خطابات شوری جلد سوم ۲۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء چین کے بادشاہ کو ہو جاتا اور وہ ان آنے والے واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا کہ اس گڈریے کا بیٹا اس کی حکومت کو چھین رہا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو وہ اس بچے کو زندہ رہنے دیتا؟ وہ فوراً اُس کا گلا گھونٹ کر مروا دیتا اور بچہ وہیں ختم ہو کر رہ جاتا۔یا اگر نادر شاہ کے متعلق ایران کے بادشاہ کو علم ہوتا کہ یہ کسی دن اُس کو قتل کر کے خود ایران پر قابض ہو جائے گا تو کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ نادر کو زندہ رہنے دیتا؟ وہ ایک سپاہی بھیج کر بڑی آسانی سے اُس کا گلا کٹوا سکتا تھا لیکن باوجود اس کے کہ بچہ ایک زمانہ میں حکومت کو تہ و بالا کرنے والا تھا اور اُس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا تھا پھر بھی اُس گڈریے کو مارنا آسان نہیں تھا جتنا آسان اُس بچے کو مارنا تھا حالانکہ باپ کی اپنے بچہ کے مقابلہ میں وہ حیثیت بھی نہیں تھی ا جو ایک مکھی کی ہاتھی کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔باپ مکھی کی حیثیت رکھتا تھا اور بیٹا ہاتھی کی حیثیت رکھتا تھا۔باپ گڈریا تھا اور گڈریا رہ کر ہی مرجانے والا تھا مگر بچہ گو ایک گڈریے کا تھا مگر مقدر یوں تھا کہ وہ ایک دن ملک کا بادشاہ بن جائے۔پس بیٹا ہاتھی بننے والا تھا اور باپ ایک مکھی کی حیثیت رکھتا تھا۔مگر دوسری طرف مکھی کی حیثیت رکھنے والے باپ پر اگر بادشاہ حملہ کرتا تو ممکن تھا وہ جنگلوں میں بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوسکتا لیکن ہاتھی کی حیثیت رکھنے والے بچہ پر اگر اُس وقت کوئی شخص حملہ کر دیتا تو گو وہ ہاتھی کی حیثیت رکھتا تھا مگر اپنی جان کو اُس طرح نہ بچا سکتا جس طرح مکھی کی حیثیت رکھنے والا باپ اپنی جان کو بچا لیتا۔کیا تم سمجھتے ہو اگر چین کے بادشاہ کو معلوم ہو جا تا کہ مانچو میرے خاندان کی بادشاہت ختم کرنے والا ہے اور ایک دو سال نہیں بلکہ کئی سو سال تک یہ اور اس کا خاندان ہی چین پر حکمران رہے گا تو وہ اسے زندہ چھوڑ دیتا؟ باوجود اس کے کہ مستقبل میں وہ ہاتھی بننے والا تھا اُس وقت ایک مکھی کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتا تھا اور بادشاہ بڑی آسانی سے اسے ہلاک کر سکتا تھا۔مگر چونکہ اسے علم نہ ہوا کہ اُس کے اندر کون سی عظمت مخفی ہے وہ اس کی مستقبل کی ترقی کو نہ دیکھ سکا۔پس دشمن کا اس بات سے آگاہ ہو جانا کہ میرا مد مقابل ضرور کچھ بننے والا ہے خطرات کو بڑھا دیتا ہے اور ذمہ داریوں میں بہت اضافہ کر دیتا ہے۔اس وقت ہماری جماعت بھی ایک ایسے ہی دور میں سے گزر رہی ہے کہ دشمنوں کی آنکھیں ہماری ترقی کو دیکھ کر حیران ہیں۔