خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 236

خطابات شوری جلد سوم ۲۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ابھی بہت دور ہے ، ہماری مشکلات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں اور جوں جوں ہم اپنا قدم آگے بڑھاتے چلے جارہے ہیں دشمن ہماری عظمت اور ہماری شوکت اور ہماری بڑھنے والی طاقت سے آگاہ ہو کر زیادہ سے زیادہ ہوشیار اور زیادہ سے زیادہ ہمارا مخالف ہوتا چلا جاتا ہے مگر ہماری جماعت کے افراد ہیں کہ وہ آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔دنیا میں دو طرح کی عظمت ہوتی ہے جو پیدا شدہ ہوتی ہے۔بسا اوقات پیدا کردہ عظمت بڑی نظر آتی ہے حالانکہ پیدا کردہ عظمت چھوٹی ہوتی ہے اور پیدا شدہ عظمت زیادہ ہوتی ہے۔ایک گڈریا جب اپنی بکریاں چرانے کے لئے جنگل میں جاتا اور اپنی لاٹھی سے پتے گرا گرا کر اپنی بکریوں کے آگے ڈالتا ہے تو اُس وقت جب کوئی شخص اُس بکریاں چرانے والے کے پاس سے گزرتا ہے تو وہ کہتا ہے یہ کتنا مضبوط اور طاقتور نوجوان ہے۔مگر جب اس گڈریا کے چھوٹے چھوٹے بچے جب اُس کی جھونپڑی میں ریں ریں کر رہے ہوتے ہیں اور کوئی شخص وہاں سے گزرتا ہے تو وہ اس کے نحیف وزار اور کمزور و نا تواں بچوں کو ریں ریں کرتے اور جھونپڑی میں ان کی خستہ حالی کو دیکھتے ہوئے کہہ اُٹھتا ہے۔یہ کتنا غریب ہے، کیسا مسکین اور ناتواں ہے، رہنے کے لئے اس کے پاس جھونپڑی کے سوا کچھ نہیں اور بچے ہیں کہ وہ سارا دن ریں ریں کرتے رہتے ہیں اور اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو انہیں کھلائے۔وہ گڈریا کی بے کسی اور اسکے بچوں کی ناتوانی پر اپنے دل میں رحم کے جذبات اُبھر تے محسوس کرتا ہے۔حالانکہ تاریخ کے ورق اس بات پر شاہد ہیں کہ کئی گڈریوں کے بیٹے بادشاہ ہوئے اور اُنہوں نے بڑے بڑے مملکوں کو تہہ و بالا کر دیا۔نادرشاہ جو ایران سے اُٹھا اور ہندوستان پر حملہ آور ہوا ایک گڈریے کا ہی بیٹا تھا۔وہ گڈریے کا بیٹا ایک دن اس شان کو پہنچا کہ اُس نے سابق تاجدار ایران کو قتل کر دیا اور خود تمام ایران پر قابض ہو گیا۔اسی طرح چین میں مانچو خاندان جس نے صدیوں تک حکومت کی اُس کی ابتداء بھی اسی طرح ہوئی۔مانچو ایک گڈریے کا بیٹا تھا۔جب وہ بچہ تھا اُس کے اندر اُس کی پیدا شدہ طاقت تھی اور جو طاقت اُس کے باپ کے اندر تھی وہ اُس کی پیدا کی ہوئی طاقت تھی۔گویا باپ میں وہ طاقت تھی جو ظاہر ہو چکی تھی اور بچے میں وہ طاقت تھی جو ابھی ظاہر نہیں ہوئی تھی۔اگر اس بچہ کی وہ طاقت جو ابھی ظاہر نہیں ہوئی تھی اگر اُس کا علم