خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 235
خطابات شوری جلد سوم ۲۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء : اس سستی اور غفلت کا ازالہ کرے اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میرے توجہ دلانے پر جماعت تبلیغ کی طرف متوجہ ہوگئی اور ہماری جماعت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی مگر اس کوشش اور جدوجہد کے باوجود اب تک بھی ہم ہندوستان اور غیر ممالک میں دس لاکھ تک نہیں پہنچے۔اگر ووٹوں کی تعداد کے لحاظ سے جماعت کی تعداد کا اندازہ لگایا جائے تو میں کہتا ہوں کہ ہماری جماعت ہندوستان میں چار لاکھ کے قریب ہے مگر اس کے باوجود ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں۔ابھی تک ہماری جماعت نازک دور کے مطابق ذمہ داریاں نبھانے کی تلقین اسی میں ہاری اتنا کمزور کمزور اور بے انتہا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اس کمزوری کو جلد سے جلد دور کریں اور لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں تک اپنی جماعت کی تعداد کو پہنچا ئیں۔اس وقت ساری دنیا کی آبادی دو اڑھائی ارب ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان سب کو اسلام کے جھنڈے کے نیچے لائیں اور اُنہیں ایمان اور اسلام کی دولت سے مالا مال کریں اس کام کے لئے ضروری ہے کہ ہم جلد سے جلد اپنے آپ کو لاکھوں سے کروڑوں میں تبدیل کریں اور پھر کروڑوں سے اربوں تک پہنچنے کی کوشش کریں۔مگر لاکھوں سے کروڑوں تک پہنچنا کوئی آسان کام نہیں۔اس کے لئے بہت بڑی جدو جہد بہت بڑی کوشش اور بہت بڑی قربانیوں اور ایثار کی ضرورت ہے۔ہماری جماعت کی حالت اس وقت ایسی ہے جیسے ایک تھکا ماندہ انسان شدید گرمی کے موسم میں جب کہ پیاس سے اُس کے ہونٹ خشک ہورہے ہوں اور دو قدم چلنا بھی اُس پر گراں گزرتا ہو۔اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھ رہا ہو کہ راستہ میں ایک ٹیلہ آ جائے جس پر چڑھنا اس کے لئے ضروری ہو۔جس طرح وہ تھکا مانده انسان شدید گرمی اور شدت پیاس کی حالت میں ٹیلے پر چڑھتے وقت قدم قدم پر ہانپنے لگ جاتا ہے۔گز گز بھر چل کر اُس کے قدم لڑکھڑانے لگ جاتے ہیں، وہ اُٹھتا ہے اور دو قدم چل کر سانس لینے کے لئے بیٹھ جاتا ہے، پھر چلتا ہے اور بیٹھتا ہے اور ایک ایک قدم اُٹھا نا اُسے سخت دشوار نظر آتا ہے بالکل ویسی ہی حالت اس وقت ہماری جماعت کے بعض افراد کی ہو رہی ہے۔ہماری منزل مقصود