خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 234

خطابات شوری جلد سوم ۲۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۷ء ہیں لاکھ آدمی فوج میں بھرتی کرا دیا ہے۔مگر اس کا کیا انجام ہوا؟ انجام یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ اس اعلان کے بعد بھی چار سال تک بھرتی جاری رہی پھر بھی بیس لاکھ تک تعداد نہ پہنچی۔مجھ سے جب لوگ پوچھتے ہیں کے آپ کی جماعت کی ترقی کے متعلق کیا اندازہ ہے؟ تو میں اُنہیں یہی کہا کرتا ہوں کہ میرا اندازہ یہ ہے کہ پنجاب میں اڑھائی لاکھ احمدی ہیں۔اور اگر باقی ہندوستان اور غیر ممالک کے احمدیوں کو ملا لیا جائے تو یہ تعداد تین ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ ہماری تعداد دس لاکھ نہیں گجا یہ کہ آج سے ہیں یا چالیس سال پہلے دس لاکھ ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ اُس زمانہ سے اس زمانہ میں ہم نے بہت بڑی ترقی کی ہے اور بہت بڑی شوکت ہے جو ہماری جماعت کو حاصل ہوئی ہے مگر جب کہنے والوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہماری جماعت کی تعداد دس لاکھ ہے تو وہ ترقی جو بعد میں حاصل ہوئی وہ لوگوں کو نظر نہ آئی کیونکہ اُن پر اثر تب ہوتا جب وہ سمجھتے کہ جماعت دس سے بیس لاکھ ہوگئی ہے یا بیس سے تیس لاکھ ہوگئی ہے۔جب پہلے ہی دس لاکھ تعداد بتادی گئی تو بعد میں جو ہزاروں ہزار افراد ہماری جماعت میں شامل ہوئے تھے وہ کسی شمار میں نہ آسکے اور لوگوں پر ہماری جماعت کی ترقی مشتبہ ہوگئی۔اگر کہا جائے کہ یہ دس لاکھ تعداد اُن لوگوں کی تھی جو جماعت احمدیہ سے ہمدردی رکھتے تھے تو پھر دس لاکھ کی کیا شرط ہے میں کہتا ہوں ایسی ہمدردی رکھنے والے اُس زمانہ میں بیس لاکھ بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روشن شخصیت اُس وقت موجود تھی اور لاکھوں لاکھ آپ سے دلی عقیدت اور اخلاص رکھتے تھے گو وہ جماعت احمد یہ میں شامل نہیں تھے۔ایسے افراد دس نہیں ہیں لاکھ بھی ہو سکتے ہیں مگر حقیقتا اُس وقت ہماری جماعت کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی مگر ایک نفسی کمزوری کی وجہ سے بعض لوگوں نے اس کو دس لاکھ بتا دیا اور بعض دفعہ اُنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یقین دلایا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری جماعت کی اتنی ہی تعداد ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری جماعت سالها سال اسی خیال میں مگن رہی کہ ہم دس لاکھ تک پہنچ چکے ہیں اور اُس نے ترقی کی طرف اپنا قدم نہ اُٹھایا۔آخر میں نے جماعت کو بار بار توجہ دلائی کہ وہ تبلیغ کرے اور اپنی