خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 215
خطابات شوری جلد سوم ۲۱۵ ت ۱۹۴۶ء جب دور اول ختم ہو تو اس وقت ایک مضبوط ریز روفنڈ بھی قائم ہو اور آئندہ دس گیارہ سال تک وہ اپنی آمد سے مشنوں کو بھی چلا سکے۔بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ ریز روفنڈ تو پہلے سے قائم ہے، یہ نیا ریز روفنڈ کیسا ہے۔وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ہم نے صرف موجودہ مشنوں کو ہی نہیں چلا نا بلکہ اپنے کاموں کو بڑھانا بھی ہے اور اس کے لئے بہت بڑے ریز روفنڈ کی ضرورت ہے۔دفتر اول کاریز روفنڈ صرف اُن ملکوں میں تبلیغ پر خرچ کیا جائے گا جن ممالک میں اس وقت مشن قائم ہیں لیکن دفتر دوم کا ریز رو فنڈ اور ملکوں میں تبلیغ کرنے پر خرچ کیا جائے گا اسی طرح دفتر سوم کا ریز روفنڈ اور ممالک پر خرچ ہوگا۔بعض لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ چونکہ ابھی دفتر دوم کے کام کرنے کا وقت نہیں اس لئے ہمیں اس کی طرف زیادہ توجہ کرنے کی ضرورت نہیں حالانکہ سوال یہ ہے کہ نئے دور کی جو ترقی ہوگی اس کے لئے ریز رو فنڈ بھی ضروری ہوگا اور ریز روفنڈ ا نہی آٹھ نو سالوں میں ہم نے جمع کرنا ہے۔اگر ان سالوں میں کافی ریز رو فنڈ جمع نہ ہوا تو اس دور کا کام بہت ناقص رہے گا۔جب دفتر دوم تمام کام سنبھال لے گا تو دفتر سوم کا اعلان کر دیا جائے گا اور اس کی آمد نو سال تک ریز روفنڈ کے طور پر جمع ہوتی رہے گی۔اس طرح یہ سلسلہ انشاء اللہ وسیع تر ہوتا چلا جائے گا۔اسی طرح بجٹ کی صحیح تشخیص اور چندوں کی باقاعدہ وصولی کی طرف بھی ہمیں خاص توجہ کی ضرورت ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ہمیں قریب زمانہ میں اپنے بجٹ کو ۲۵ لاکھ تک پہنچا دینا چاہئے اور یہ کوئی مشکل امر نہیں۔دہلی کے متعلق ناظروں نے کہا ہے کہ وہاں سے تمیں ہزار روپیہ وصول ہو سکتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں یہ اندازہ صحیح نہیں۔میرے نزد یک اگر دہلی کی جماعت کی صحیح تشخیص کی جائے تو ساٹھ ہزار روپیہ چندہ وصول ہوسکتا ہے۔اسی طرح لاہور کے متعلق وہاں کے امیر جماعت نے بتایا ہے کہ ہما را چندہ تمہیں ہزار روپیہ ہوتا ہے حالانکہ میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر لاہور کے دوستوں کی آمد کی صحیح تشخیص کی جائے اور چندہ کی باقاعدہ وصولی کی جائے تو ایک لاکھ روپیہ سالا نہ صرف لاہور سے وصول ہوسکتا ہے ممکن ہے اس اندازہ میں تھوڑی بہت کمی بیشی ہو لیکن زیادہ کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔خدا تعالیٰ نے مجھے حساب کا ایک خاص ملکہ دیا ہے جس کی وجہ سے میں بہت جلد حساب کر لیتا ہوں۔