خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 216

خطابات شوری جلد سوم ۲۱۶ رت ۱۹۴۶ء اُس لحاظ سے ممکن ہے ۱۵۔۲۰ ہزار کا فرق ہو جائے مگر زیادہ فرق نہیں ہوسکتا۔مثلاً ہوسکتا ہے کہ دہلی سے ساٹھ ہزار روپیہ وصول ہونے کی بجائے آٹھ دس ہزار روپیہ کم وصول ہو۔اسی طرح لاہور کا چندہ اگر ایک لاکھ روپیہ تک نہ پہنچ سکے تو اسی ہزار تک آ جائے۔بہر حال اس اندازہ میں زیادہ فرق نہیں ہوسکتا۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ اگر سات آٹھ مرکزی شہروں کی آمد کو ہی بڑھایا جائے تو بجٹ میں دو تین لاکھ روپیہ سالانہ کی زیادتی ہو سکتی ہے پس میں نظارت بیت المال کو ہدایت کرتا ہوں کہ چندہ کی صحیح تشخیص کی جائے اور پھر اُس کی وصولی کی بھی پر زور کوشش کی جائے۔پہلے مرکز کی جماعت کے چندہ کی صحیح تشخیص کی جائے اور پورا چندہ وصول کیا جائے۔اس کے بعد لاہور کے چندہ کی صحیح تشخیص کی جائے ، دہلی کے چندہ کی صحیح تشخیص کی جائے ، کلکتہ کے چندہ کی صحیح تشخیص کی جائے ، پشاور کے چندہ کی صحیح تشخیص کی جائے ، اسی طرح بعض اور مرکزی شہروں کے چندہ کی صحیح تشخیص کی جائے جیسے حیدر آباد وغیرہ ہے۔اگر صرف ان پانچ سات شہروں کے چندہ کی صحیح تشخیص کی جائے تو دو تین لاکھ روپیہ سالانہ کی زیادتی ہماری آمد میں ہوسکتی ہے۔اس کے بعد اگر باقی جماعتوں کے چندہ کو بھی مدنظر رکھا جائے اور ان کی آمد کی بھی صحیح تشخیص کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہماری موجودہ جماعت ہی پانچ چھ لاکھ روپیہ سالانہ اور چندہ دے سکتی ہے اور پھر جماعت کی وسعت کے ساتھ اس چندہ میں بھی روز بروز اضافہ ہوسکتا ہے۔سر دست اگر چار پانچ لاکھ روپیہ کی ہی زیادتی ہو جائے تو دیہاتی معلّم بجائے پچاس ساٹھ رکھنے کے ہم دو تین سو رکھ سکتے ہیں اور چونکہ دیہاتی معلمین کے ذریعہ بھی جماعت کی توسیع ہوگی اس لئے ہماری آمد خدا تعالیٰ کے فضل سے موجودہ زمانہ سے بہت بڑھ جائے گی۔مرکز سے تعلق کی اہمیت میں آخر میں جماعت کو پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ دنیا پر جو نازک دور آ رہا ہے اُس کے لحاظ سے ہماری جماعت کے دوستوں کو مرکز میں آنے کی رفتار بہت تیز کر دینی چاہئے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دوستوں کی یہاں آنے کی رفتار بہت کم ہے اتنی کم کہ وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔لوگ اپنے اوقات اِدھر اُدھر گزارنا زیادہ پسند کرتے ہیں مگر مرکز میں آنے کی اہمیت کو وہ محسوس نہیں کرتے حالانکہ دُنیا میں آئندہ جو کچھ ہونے والا ہے اُس کے لحاظ سے