خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 211
خطابات شوری جلد سوم ۲۱۱ ت ۱۹۴۶ء بپا تھا مگر اُس وقت وہاں ایک ہی مبلغ تھا جسے نیروبی کی جماعت کی اصلاح کے لئے بھیجنا پڑا۔نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں مخالفین نے اُن کے دلوں میں ہمارے خلاف خطرناک جوش بھر دیا اور جب ہمارا آدمی واپس پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ وہ لوگ اسلام قبول کرتے وہ اسلام کی عداوت اور دشمنی میں سخت ہو چکے تھے۔ایسی روئیں ہمیشہ چلتی رہتی ہیں اور ان سے فائدہ اُٹھانا زندہ قوموں کے لئے ضروری ہوتا ہے مگر یہ فائدہ پوری طرح نہیں اُٹھایا جاسکتا جب تک مبلغین کی کثرت نہ ہو۔اسی طرح بعض اور علاقے ہیں جہاں سے متواتر مانگ آ رہی ہے میں سمجھتا ہوں افریقہ میں ۱۳ ، ۱۴ علاقے ایسے ہیں جہاں کے رہنے والے ہم سے مبلغوں کا تقاضا کر رہے ہیں مگر ہمارے پاس مبلغ موجود نہیں۔اور بعض تو چار چار پانچ پانچ سال سے آدمی مانگ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہماری قوم اسلام لانے کے لئے تیار ہے آپ اپنے آدمی ہماری طرف بھجوائیں مگر ہم اُن کے مطالبہ کو پورا نہیں کر سکے۔ایک رئیس نے تین چار سال تک ہم سے مبلغ کا مطالبہ کیا آخر اس نے لکھا کہ اگر میں اسی حالت میں مر گیا تو میرے دین کا کون ذمہ دار ہوگا ؟ ایک اور کے متعلق ہمارے مبلغوں نے لکھا ہے کہ وہ بار بار ہمیں خط لکھتا تھا مگر ہم اس کے پاس نہ پہنچ سکے۔اب اطلاع ملی ہے کہ وہ مر گیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ہی مجرم ہیں ورنہ وہ تو بار بار لکھ رہا تھا کہ بلغ بھیج مبلغ بھیجو یہ ہماری ہی غلطی ہے کہ ہم نے کوئی مبلغ نہ بھیجا اور وہ فوت ہو گیا۔تجارتی کاموں میں تعاون چوتھے تجارتی کاموں میں تعاون نہایت ضروری چیز ہے۔میں اس کے متعلق اپنی کل کی تقریر میں جماعت کو بہت کچھ نصیحت کر چکا ہوں اب پھر نصیحت کرتا ہوں کہ سلسلہ کی طرف سے جو کارخانے جاری ہیں جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ وہ ان کارخانوں کے بنے ہوئے مال کو دوسرے کارخانوں پر مقدم سمجھیں بلکہ مقدم کا ہی سوال نہیں میرے نزدیک ہر شخص جو احمدی کہلاتا ہے اُسے اپنے کارخانوں کی بنی ہوئی اشیاء کو خریدنا فرض سمجھنا چاہئے اور وہی چیز دوسروں سے خریدنی چاہئے جو سلسلہ کے کارخانوں سے نہ مل سکتی ہو۔اب ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی ہے کہ اگر اس میں صحیح طور پر تعاون کی روح پیدا ہو جائے تو وہ ابتدائی نا کامیاں جو بالعموم کارخانوں میں ہوتی ہیں ان سے ہمارے کارخانے بالکل محفوظ