خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 212

خطابات شوری جلد سوم ۲۱۲ رت ۱۹۴۶ء ہو جائیں۔میرے نزدیک ہر مقام کے احمدی تاجروں کو چاہئے کہ وہ اپنے کارخانوں سے مال منگوائیں اور یہ فیصلہ کر لیں کہ جو چیز ہماری جماعت کے کارخانوں میں تیار ہو رہی ہے وہ ہم دوسروں سے نہیں لیں گے۔پانچویں چیز جس کی طرف ہماری جماعت کو خاص طور پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت ہے میں بتا چکا ہوں کہ باوجود اس کے کہ میں نے ایک خطبہ کے ذریعہ جماعت کے تمام افراد سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ سال بھر میں کم از کم ایک شخص کو اسلامی انوار کا گرویدہ بنانے کا عہد کریں اب تک صرف ۷۸ جماعتوں کے۱۱۹۲۔افراد نے اس سلسلے میں وعدے کئے ہیں۔یہ تعداد اس قدر قلیل ہے کہ اسے دیکھتے ہوئے حیرت آتی ہے ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں تک پہنچ چکی ہے مگر اس عہد میں صرف ۱۱۹۲۔افراد نے حصہ لیا ہے جو ثبوت ہے اِس بات کا کہ ابھی تک ہماری جماعت نے اس عہد کی اہمیت کو پوری طرح محسوس نہیں کیا۔اب جبکہ نمائندگان جماعت یہاں سے فارغ ہو کر اپنی جماعت میں واپس جانے والے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ واپس جا کر اپنی جماعت کے ہر فرد سے یہ عہد لیں۔اگر ہماری جماعت کے کم از کم ایک لاکھ افراد ہی یہ عہد کر لیں اور ان میں سے آدھے بھی اپنی کوششوں میں کامیاب ہو جائیں تو پچاس ہزار سالانہ ہماری جماعت میں نئے لوگ داخل ہو سکتے ہیں اور یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ اگر اس نسبت سے ہر سال ہماری جماعت میں نئے لوگ داخل ہونے لگ جائیں تو چار پانچ سال میں ہی ہماری جماعت کو غیر معمولی ترقی حاصل ہو سکتی ہے۔اس کے بعد جب وہ ہزاروں نئے داخل ہونے والے افراد بھی دوسروں کو باتیں بتائیں گے اور وہ افراد جو جماعت میں پہلے سے داخل ہیں وہ بھی اس عہد کو پورا کرتے چلے جائیں گے تو پھر ہزاروں کا بھی سوال نہیں رہے گا بلکہ ہماری جماعت میں نئے داخل ہونے والے افراد کی سالانہ تعداد لاکھوں اور کروڑوں تک پہنچ جائے گی۔پس اس چیز کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جماعت کے ہر فرد کو سال بھر میں کم از کم ایک شخص کو اسلامی انوار کا گرویدہ بنانے کا عہد کرنا چاہئے اور نمائندگان کو واپس جا کر اپنی جماعتوں سے یہ عہد لے کر مرکز میں اطلاع دینی چاہئے تا ہماری جماعت کا قدم غیر معمولی