خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 210
خطابات شوری جلد سوم۔۲۱۰ ت ۱۹۴۶ء کر دیتا ہے اور بعض دفعہ میرے قلب پر وہ اپنا فیصلہ نازل کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک میرے ساتھ اتنی کثرت اور اتنے تواتر سے ہوتا ہے کہ میں خود حیران رہ جاتا ہوں کہ میری زبان سے کیا نکل رہا ہے مگر ابھی چند دن نہیں گزرتے کہ جو کچھ میری زبان پر جاری ہوا ہوتا ہے وہ واقعات کی صورت میں دُنیا میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ میں ایک بات کہتا ہوں اور خود مجھے اُس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی مگر چند دنوں کے اندر اندر غیب سے اس کے لئے سامان پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔کوئی افریقہ میں پیدا ہونے لگتا ہے، کوئی امریکہ میں پیدا ہونے لگتا ہے اور ان انقلابات کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ وہ الفاظ میرے نہیں تھے بلکہ خدا تعالیٰ کی وحی خفی سے میری زبان پر جاری ہوئے تھے۔ان میں سے بعض ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ کسی دوسرے کو اُن سے واقف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ واقف ہونے سے اُس کی ساری قوت اور طاقت باطل ہو جاتی ہے۔بہر حال ہمیں دُعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔میں نے کل اپنی تقریر میں جو باتیں بیان کی تھیں اُن کی طرف بھی میں ایک دفعہ پھر اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں بالخصوص اس امر کی طرف کہ جامعہ احمدیہ میں انہیں زیادہ سے زیادہ طلباء بھجوانے چاہئیں تا کہ ہم جلد سے جلد دُنیا میں اسلام کو پھیلا سکیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ۲۵ سے ۵۰ تک ہر سال نئے لڑ کے جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے چاہئیں اور پھر ضروری ہے کہ آہستہ آہستہ ہم اس تعداد کو سو تک پہنچا دیں تا ایک سو علماء سالانہ ہماری جماعت کو مہیا ہوتا رہے۔یا اگر بعض نوجوان فیل ہو جائیں اور بعض پڑھائی چھوڑ دیں تب بھی ۷۰ ۸۰ علماء ہر سال ہماری جماعت کو ملنے لگ جائیں اور جلد سے جلد ہم دنیا کے تمام کونوں میں اپنے تبلیغی مشن پھیلا سکیں۔اس وقت بعض جگہ آدمیوں کی کمی کی وجہ سے خطرناک حالات پیدا ہو چکے ہیں۔افریقہ سے مبلغین کا مطالبہ ابھی ہمارے مبلغین کی طرف سے اطلاع آئی ہے کہ افریقہ کے ایک حبشی قبیلہ میں اسلام کی تائید میں ز بر دست رو چل رہی تھی اور وہ سارے کا سارا قبیلہ اس بات کے لئے تیار تھا کہ عیسائیت چھوڑ کر اسلام میں شامل ہو جائے۔ان میں تبدیلی مذہب کے متعلق ایک ہیجان اور طوفان