خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 209
خطابات شوری جلد سوم ۲۰۹ رت ۱۹۴۶ء میں سے نکال دیں کہ بار بار جانی اور مالی قربانیوں کا مطالبہ کرنے کے باوجود ابھی تک جان اور مال کو قربان کرنے کا وقت نہیں آیا۔زمانہ اُس وقت کو قریب سے قریب تر لا رہا ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ آج سے دس سال بعد یا ہیں سال بعد یا پچاس سال بعد وہ زمانہ آنے والا ہے مگر بہر حال وہ منزل ہمارے قریب آ رہی ہے اور جب تک ہماری جماعت اس دروازہ میں سے نہیں گزرے گی وہ صحیح معنوں میں ایک مامور کی جماعت کہلانے کی بھی حق دار نہیں ہو سکتی۔یہ قطعی اور یقینی اور لازمی بات ہے کہ ہم اسلام اور احمدیت کو پھیلاتے ہوئے خطروں کے طوفانوں سے گزریں گے۔اسی طرح یہ قطعی اور یقینی اور لازمی بات ہے کہ ہمیں ایک دفعہ ہجرت کرنی پڑے اور اپنے مکانوں اور جائیدادوں سے محض خدا کے لئے دست بردار ہو جانا پڑے مگر ابھی تک ہم اس امتحان سے بھی نہیں گزرے۔بہر حال یہ دن جلد یا بدیر آنے والا ہے اور ہماری جماعت کے افراد کو اس دن کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔ہمیں کیا معلوم کہ وہ دن کب آنے والا ہے۔ہم اُن بیوقوف کنواریوں کی طرح کیوں نہیں جو اپنے ساتھ تھوڑا سا تیل لے کر گئی تھیں اور جو تیل کے ختم ہو جانے پر اس بات پر مجبور ہوئی تھیں کہ بازار جائیں۔ہمیں ان عقلمند کنواریوں کی طرح بننا چاہئے جو اپنے ساتھ کافی تیل لے کر گئی تھیں جو دولہا کے انتظار میں کھڑی رہیں یہاں تک کہ دولہا آیا اور وہ اس کے ساتھ قلعہ کے اندر داخل ہو گئیں۔خلیفہ وقت پر تقدم جائز نہیں تقدم جائز نہیں میں اسی سلسلہ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری شریعت نے یہ حکم دیا ہے کہ تمہیں خدا کے رسول پر تقدم نہیں کرنا چاہئے اور یہ حکم محض خدا کے انبیاء سے مخصوص نہیں بلکہ جس طرح ایک رسول پر تقدم منع ہے اسی طرح اُس کے خلیفہ پر بھی تقدم منع ہے۔پھر ایسا خلیفہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی پیشگوئیوں کے مطابق اسلام کی فتح کے لئے جرنیل مقرر کیا ہو اُس پر تقدم تو بہت ہی ناجائز بات ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ وہ ہر معاملہ میں ڈر ڈر کر اور پھونک پھونک کر قدم رکھے۔ایسا نہ ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی مورد بن جائے۔ہر قدم ہمارے لئے ایسا ہے کہ اس میں خدائی رہنمائی کی ضرورت ہے اور خدا کا میرے ساتھ یہ سلوک ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے فضل سے میری راہنمائی فرماتا ہے۔بعض دفعہ الفاظ میں وہ مجھ پر وحی نازل