خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 208
خطابات شوری جلد سوم ۲۰۸ ت ۱۹۴۶ء کا بھی سوال نہیں ، آدھی دینے کا بھی سوال نہیں ، پانچ یا دس فیصدی دینے کا بھی سوال نہیں، صرف ارادے کا سوال ہے مگر اس ارادے میں بھی ساری جماعت شامل نہیں ہوئی۔اب بتاؤ جب قربانی کے صرف ارادہ میں جماعت کا ایک فیصدی حصہ بھی شامل نہ ہو تو جب حقیقی قربانیوں کا وقت آیا اس وقت کس طرح امید کی جاسکتی ہے کہ سو فیصدی تو الگ رہے ایک فیصدی لوگ بھی اس میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔میرا منشاء اس تحریک سے صرف اتنا تھا کہ میں جماعت کے ذہنوں کو آئندہ آنے والی قربانیوں کے لئے تیار کروں اور وہ اپنی تیاری کا ثبوت دینے کے لئے سلسلہ کو صرف اس قدر لکھ دیں کہ ہماری جائیدادیں اب ہماری نہیں رہیں بلکہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے وقف ہو چکی ہیں۔مگر افسوس کہ ہماری جماعت کے بہت سے دوست یہ الفاظ لکھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوئے۔ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب گوڑگانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک مقرب صحابی تھے۔صدر انجمن احمدیہ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ممبر تجویز فرمائے تھے اُن میں آپ کا بھی نام تھا۔مگر خواجہ صاحب نے بعد میں اُن کا اور بعض اور دوستوں کا نام نکلوا دیا۔وہ سنایا کرتے تھے کہ گوڑ گاؤں میں ایک بنیا تھا جس کے ایک پٹھان رئیس سے بہت تعلقات تھے مگر تعلقات محبت کے باوجود اُس کی حالت یہ تھی کہ جب کبھی اُس نے خانصاحب سے ملنا تو اپنے تعلقات اور محبت کے اظہار کے لئے بڑے جوش سے کہنا ، خانصاحب خانصاحب ! " تمہارا مال سو ہمارا مال اور ہمارا مال سوئیں ہیں ہیں۔“ یعنی خانصاحب آپ کا مال تو ہمارا مال ہوا۔اور ہمارا مال۔اُس کے متعلق آپ کیا پوچھتے ہیں اس کے بعد اُس نے ”ہیں ہیں ہیں“ کہہ کر بات ختم کر دینی۔گویا دینا تو الگ رہا وہ منہ سے بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ میرا مال آپ کا مال ہے۔بلکہ ہیں ہیں ہیں کہہ کر خاموش ہو جاتا تھا۔یہی بات اگر ہماری جماعت کے بعض افراد میں بھی پیدا ہو جائے تو ہم اپنی جماعت کے کامیاب ہونے کی کس طرح امید رکھ سکتے ہیں۔آئندہ خطرات کی نشاندہی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری جماعت کے تمام افراد کم سے کم یہ احساس اپنے اندر پیدا کریں کہ ہم سے جب بھی کسی قربانی کا مطالبہ کیا جائے گا ہم اس کو پیش کر دیں گے اور اس بات کو اپنے دل