خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 207

خطابات شوری جلد سوم ۲۰۷ ت ١٩٤٦ء بعد میں دوسری عورتیں آئیں گی اور وہ شور مچاتے ہوئے کہیں گی کہ ہم بھی تیری دلہنیں ہیں ، ہم صرف تیل لینے گئی تھیں۔اب ہم بازار سے تیل لے آئی ہیں قلعہ کا دروازہ کھول تا کہ ہم بھی اندر داخل ہوں۔مسیح انہیں جواب دے گا کہ اب تمہارے لئے دروازہ نہیں کھولا جا سکتا۔وہ جو دولہا کے انتظار میں بیٹھی رہیں وہی اس بات کی مستحق تھیں کہ دولہا کے ساتھ قلعہ میں داخل ہوتیں مگر وہ جو اس کا انتظار نہ کرسکیں ، وہ اس قابل نہیں کہ ان کے لئے دروازہ کھولا جائے ، جاؤ اور اس دروازہ سے ہٹ جاؤ کہ اب تمہارے لئے دروازہ نہیں کھولا جا سکتا۔کے یہ مسیح نے اپنی آمد ثانی کے متعلق ایک تمثیل بیان فرمائی ہے اور یقیناً اس کے کوئی معنے ہیں۔وہ معنے یہی ہیں کہ مسیح کے زمانہ میں حقیقی قربانیوں کو زیادہ سے زیادہ پیچھے ڈالا جائے گا یہاں تک کہ جب حقیقی دلہنیں بنے کا وقت آئے گا اُس وقت کچھ طبقہ یہ سمجھنے لگ جائے گا کہ حقیقی قربانیوں کے معنے ایک آنہ چندہ دینا یا ایک گھنٹہ وقت دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔چنانچہ جب کہا جائے گا کہ آ گیا وقت جان کی قربانی کا تو وہ سمجھیں گے آ گیا وقت گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ دینے کا۔اور جب کہا جائے گا آگیا وقت مال قربان کرنے کا تو وہ سمجھیں گے کہ آ گیا وقت ایک آنہ یا ڈیڑھ آنہ چندہ دینے کا۔حالانکہ اُس وقت گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ وقت دینے کا سوال نہیں ہو گا بلکہ اپنی جان کو قربان کرنے کا سوال ہوگا اور اُس وقت صرف آنہ ڈیڑھ آنہ چندہ دینے کا سوال نہیں ہوگا بلکہ اپنے سارے مال اور ساری جائیداد سے ایک لمحہ کے اندر اندر دست بردار ہو جانے کا سوال ہوگا۔میں نے اسی لئے قدم بقدم جماعت میں ان قربانیوں کا احساس پیدا کرنے کے لئے وقف جائیداد کا طریق جاری کیا تھا۔اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ ہر شخص واقع میں اپنی جائیداد سلسلہ کو دے دے، اس کے معنے یہ بھی نہیں تھے کہ چھ ماہ کے بعد ان سے اُن کی جائیدادیں لے لی جائیں گی ، یہ معنے بھی نہیں تھے کہ مرنے کے بعد ان کی جائیدادیں لے لی جائیں گی۔اس کے معنے صرف اتنے تھے کہ جماعت یہ ارادہ کرے کہ وہ اپنی جائیدادیں سلسلہ کو پیش کرنے کے لئے تیار ہے مگر اس تحریک پر تین سال گزر گئے اب تک جماعت کا ایک فیصدی حصہ بھی اس میں شامل نہیں ہوا حالانکہ یہاں کوئی جائیداد دینے کا بھی سوال نہیں۔پوری دینے کا سوال نہیں، پونی دینے