خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 196
خطابات شوری جلد سوم ۱۹۶ رت ۱۹۴۶ء تو اس بارہ میں مرکز نے جو قوانین مقرر کئے ہیں اُن کی تعمیل ہونی چاہئے۔اسی طرح مقامی جماعت کے افراد اگر اپنے امیر کے کسی فیصلہ یا حکم کے خلاف کوئی شکایت رکھتے ہوں تو اُنہیں بھی حق حاصل ہے کہ مرکز میں اپنی اپیل پیش کریں۔اس طرح ہر قسم کا جھگڑا نہایت آسانی کے ساتھ نپٹایا جا سکتا ہے اور کسی قسم کا فتنہ جماعت میں رونما نہیں ہوسکتا۔“ آخر میں حضور نے تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔۲٫۵ تک زائد ممبر مقرر کرنے کا مجلس عاملہ کو جو اختیار دیا گیا ہے یہ شق اس کے علاوہ ہے۔یعنی ۲٫۵ تک زائد ممبر منتخب کرنے کے بعد امیر کو اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کسی ضرورت کے محسوس ہونے پر عارضی طور پر ایک ممبر کا اضافہ کرلے جس کی میعاد چھ ماہ تک ہوگی۔“ (الفضل ربوه ۲۷ جون ۱۹۶۲ء) اختتامی تقریر مجلس مشاورت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حضور نے احباب کو اپنے الوداعی خطاب سے نوازا۔خدا داد بصیرت اور پیش بینی کے مطابق آپ نے آئندہ آنے والے خطرناک حالات اور نازک دور کی نشاندہی کی اور فرمایا کہ اب دین کی عظمت اور احیاء کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کا دور آ رہا ہے اس لئے تمام احمدی ہر قسم کی قربانی کے لئے عزم صمیم کر لیں۔آپ نے فرمایا : - تقوی کی اہمیت اب چونکہ شوری کی کارروائی ختم ہو چکی ہے اس لئے میں الوداعی طور پر دوستوں سے چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔یہ امر یاد رکھو کہ دینی کام ہوں یا دنیوی وہ تقویٰ اور صلاحیت کی روح پر ہی چل سکتے ہیں۔پس ہمیں قواعد اور ضوابط سے زیادہ تقویٰ اور صلاحیت کی روح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ کچھ اشعار لکھ رہے تھے کہ آپ نے ایک شعر کا پہلا مصرع یہ لکھا کہ : - ے ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے اس پر معا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا دوسرا مصرع آپ پر الہاما نازل ہوا کہ : - اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے پس جب تک تم میں تقویٰ باقی رہے گا تمہیں کوئی زوال نہیں آ سکتا۔قواعد چاہے