خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 195

خطابات شوری جلد سوم ۱۹۵ رت ۱۹۴۶ء آپ کس طرح کام کرتے ہیں۔بچہ ریں ریں کر رہا ہوتا ہے آپ اُسے کندھے سے لگائے پھر رہے ہوتے ہیں اور پھر ساتھ ہی کام بھی کرتے چلے جاتے ہیں، میرا بچہ ہو تو اُسے دو تھپڑ رسید کر دوں۔پیر صاحب سن کر بڑے اطمینان سے کہنے لگے مولوی صاحب ! بچے میرے ریں ریں کرتے ہیں، انہیں تھپکا تا میں ہوں آپ کو خواہ مخواہ کیوں تکلیف ہوتی ہے، میری سمجھ میں بھی یہ بات کبھی نہیں آئی۔اب دیکھو دونوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔پیر افتخار احمد صاحب کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ مولوی عبد الکریم صاحب کو میرے بچوں کے رونے سے کیوں تکلیف ہوتی ہے اور مولوی عبد الکریم صاحب کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ پیر صاحب کام کس طرح کرتے ہیں میرے جیسا آدمی تو انہیں فوراً دو تھپڑ رسید کر دے۔تو جب آپس میں اتحاد ہو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اختلاف کس طرح ہو سکتا ہے اور جب اختلاف واقع ہو جائے تو پھر یہ مجھ میں نہیں آتا کہ سب قانون موجود ہیں مگر اختلاف مٹتا کیوں نہیں۔پس اس فیصلہ کی میں تصدیق کرتا ہوں صرف اس قدر اضافہ کر دیتا ہوں کہ عارضی طور پر جس کی مدت چھ ماہ ہوگی ایک ممبر کا اضافہ امیر جماعت خود اپنے اختیارات سے کر سکتا ہے جس کے صرف اتنے معنے ہوں گے کہ چونکہ ایک اتفاقی ضرورت۔پیش کی گئی تھی اس لئے امیر نے ایک زائد ممبر کا اپنے اختیارات سے اضافہ کر لیا۔اصل واقعہ جو جھگڑے کی بناء ہے اور جس کی طرف سیٹھ اسماعیل آدم صاحب نے اپنی تقریر میں اشارہ بھی کیا ہے یہ ہے کہ بمبئی میں باہر سے ایک احمدی دوست آئے اور چونکہ وہ پہلے جماعت احمدیہ بمبئی کے امیر بھی رہ چکے تھے اُنہوں نے عارضی طور پر اُسے مجلس عاملہ میں شامل کر لیا، یہ ہرگز ایسی چیز نہیں تھی جس پر وہاں کی جماعت اگر اس میں اسلام کی حقیقی روح موجود ہوتی شور مچاتی اس قسم کی باتوں کے ازالہ کے لئے میں نے قانون میں اس شق کا اضافہ کیا ہے کہ امیر عارضی طور پر ایک ممبر کا اضافہ کر سکتا ہے جس کی مدت چھ ماہ ہوگی۔چھ ماہ کے بعد وہ اس معاملہ کو مجلس عاملہ کے سپر د کر دے کہ وہ اس بارہ میں مناسب فیصلہ کرے۔جب بعد میں بھی اُسے اختیار حاصل ہے کہ وہ مجلس عاملہ کے فیصلہ کو ر ڈ کر دے تو اس کے لئے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔سوال صرف اتنا ہے کہ اگر جماعتی مفاد تقاضا کرتا ہو کہ مجلس عاملہ کے فیصلہ کورڈ کیا جائے