خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 197

خطابات شوری جلد سوم ۱۹۷ رت ۱۹۴۶ء غلط ہوں یا صحیح ہوں، درست ہوں یا نا درست ہوں تمہیں تمام مشکلات اور مصائب میں سے تقوی نکال کر لے جائے گا لیکن جب تقویٰ باقی نہ رہے تو قوانین اور ضوابط کچھ بھی نہیں کر سکتے۔مُحبت اور دلیل بازی تو انسان کو اس حد تک لے جاتی ہے کہ کہنے والوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ موسی کا کوئی وجود ہی نہیں تھا، ابراہیم ایک خیالی وجود ہے، کرشن“ اور رام چندر قصوں اور کہانیوں کے ہیرو ہیں ہیسٹی کی ذات محض ایک واہمہ ہے بلکہ کہنے والوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ کائنات کا وجود محض ایک خیال اور وہم ہے اور تمام دنیا صرف وہموں کا شکار ہو رہی ہے۔پس اگر ہم خیالات پر چلیں تقویٰ اور صلاحیت کی روح اُڑ جائے تو انسان کا واہمہ اسے کہیں کا کہیں لے جاتا ہے۔حضرت خلیفہ اول اپنے ایک عزیز کے متعلق سنایا کرتے تھے کہ انہیں ایک دفعہ پیٹ میں تکلیف ہوئی اور وہ میرے پاس مشورہ کے لئے آئے۔میں نے انہیں کہا کہ آپ ذرا لیٹ جائیں تا کہ میں ٹٹول کر اندازہ لگا سکوں کہ درد کس مقام پر ہے۔وہ لیٹ گئے اور میں نے اُنگلیوں سے اُن کے پیٹ کو دبایا یہ دیکھنے کے لئے کہ اُن کے جگر کی کیا کیفیت ہے، معدہ اور امعاء کا کیا حال ہے مگر ابھی میں نے دبایا ہی تھا کہ وہ ہاہا کر کے شور مچاتے ہوئے اُٹھ بیٹھے اور گود کر پرے چلے گئے۔میں نے کہا کیا ہوا میں تو پیٹ دیکھنے لگا تھا اور آپ شور مچا کر بھاگ پڑے وہ کہنے لگے مولوی صاحب! آپ نے تو غضب کر دیا۔آپ کا دماغ بہت مضبوط ہے اور آپ کی توجہ میں بھی بڑی طاقت ہے اگر میرے پیٹ کو دباتے وقت آپ کی توجہ اس طرف مرکوز ہو جاتی کہ انگلیاں پیٹ میں گھس گئی ہیں تو کیسا غضب ہوتا۔میرا پیٹ پھٹ جاتا اور انتڑیاں باہر نکل آتیں۔اب دیکھو انسان کا وہم اُسے کہاں سے کہاں لے جاتا ہے اُن کا وہم اس طرف چلا گیا کہ حضرت خلیفہ اول چونکہ مضبوط دماغ کے آدمی ہیں اور ان کی توجہ بڑی زبردست ہے اگر پیٹ دباتے وقت ان کا خیال ادھر چلا گیا کہ میری انگلیاں پیٹ میں گھس گئی ہیں تو واقع میں ان کی انگلیاں پیٹ میں گھس جائیں گی اور میرا پیٹ پھٹ جائے گا، چنانچہ وہ فوراً شور مچاتے ہوئے الگ ہو گئے۔تو انسانی خیالات اور افکار جب مقررہ حدود سے نکل جاتے ہیں تو اُس وقت وہ وہمیوں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے اور اس کے کسی کام میں بھی برکت نہیں رہتی۔وہ چیز جسے عام طور پر دُنیا میں عقل عامہ