خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 5
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء کہ کاش ! وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہوتے اور اُن کو آپ سے ملنے اور باتیں کرنے کا موقع ملتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں مجھے چونکہ خدا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بروز قرار دیا ہے اس لئے ع صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا وہ شخص جس نے مجھ کو پالیا اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ وہ صحابہ سے جا ملے گا۔صحابہ سے ملنے کے معنے میں گزشتہ ایام میں اپنے ایک خطبہ کے ذریعہ واضح کر چکا ہوں کہ صحابہ سے ملنے کے معنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے نہیں ہیں بلکہ صحابیت کا مقام حاصل کرنے میں خود انسان کے اعمال کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آنے والوں میں سے کئی ایسے لوگ ہیں جو گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھ سکے تھے مگر انہوں نے ایسے رنگ میں اعمال کئے جن سے اُن کی اس کو تا ہی کا کفارہ ہو گیا اور باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ جسمانی طور پر نہیں ملے تھے خدا تعالیٰ نے روحانی طور پر آپ سے ملا دیا اور اس طرح آپ کے صحابہ میں وہ شامل ہو گئے۔اس کے مقابلہ میں کئی لوگ ایسے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں تھے اور وہ آپ سے ملتے بھی رہتے تھے مگر ان کے دلوں میں چونکہ ایسی تبدیلی پیدا نہ ہوئی جوان کو اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھا دیتی اس لئے با وجو د رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے کے اور باوجو د رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام سننے کے وہ صحابی نہیں کہلائے بلکہ منافق کہلائے۔صحابی ایک ایسا لفظ ہے جو صرف کسی نبی کی محبت میں بیٹھنے والے پر اطلاق نہیں پاتا بلکہ اس میں یہ حقیقت بھی مضمر ہوتی ہے کہ اس شخص کے اندر ایمان اور اخلاص اور ایثار کے لحاظ سے ایسی تبدیلی پیدا ہو جو اُسے اپنے متبوع کا مصاحب بننے کے قابل بنا دے۔دیکھو بادشاہ کے دربار میں بیٹھنے کا اُن لوگوں کو اتنا موقع نہیں ملتا جتنا ملازموں اور خادموں کو ملتا ہے مگر ملازموں کو مصاحب نہیں کہتے حالانکہ جہاں تک بادشاہ کے دربار میں آنے جانے کا سوال ہے یہ موقع ملازموں کو زیادہ حاصل ہوتا ہے مگر نہ تو